اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے مصنوعی ذہانت (AI) اور اسمگل کیے گئے مسلح ڈرونز کے ذریعے ایران کے جوہری اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی۔
یہ تفصیلات امریکی اخبار کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مکمل تفصیلات:
1. مصنوعی ذہانت کا استعمال
امریکی اخبار کے مطابق، موساد نے جدید AI سسٹمز استعمال کیے جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان سسٹمز کے ذریعے ایران کے اندر جوہری تنصیبات، فوجی مراکز اور دیگر اسٹریٹجک اہداف کی شناخت کی گئی۔یہ AI تجزیہ سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ ڈیٹا، اور انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔
2. تین سالہ منصوبہ بندی
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موساد نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانے کی مربوط منصوبہ بندی کی۔اس دوران مختلف طریقوں سے ایران کے اندر ڈرونز اور اسلحہ اسمگل کیا گیا۔
3. ڈرونز اور خفیہ ہتھیار
موساد نے مسلح ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیاں ایرانی سرزمین میں خفیہ طور پر داخل کیں۔یہ سامان ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔بعض مشن ایران کے اندر موساد کے مقامی نیٹ ورک کی مدد سے مکمل کیے گئے۔
4. عالمی خدشات
رپورٹ کے مطابق، اس قسم کی پیشرفت نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اسرائیل کی اس حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر سائبر اور ہائبرڈ وار فیئر کی ایک نئی شکل قرار دیا جا رہا ہے۔
5. سیاسی اثرات
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔اس انکشاف سے امریکا، یورپ اور مسلم دنیا کے کئی حلقے تشویش میں مبتلا ہیں، خاص طور پر اگر اس عمل میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔