بنگلہ دیش: سیلاب کے باوجود امتحانات، طلبہ سڑکوں پر، وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

بنگلہ دیش: سیلاب کے باوجود امتحانات، طلبہ سڑکوں پر، وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باوجود ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ (ایچ ایس سی) اور مساوی امتحانات جاری رکھنے کے فیصلے کے خلاف طلبہ نے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

ڈھاکہ سے نامہ نگار سلیم رضا کے مطابق طلبہ کا مؤقف ہے کہ سیلاب اور مسلسل بارشوں کے باعث متعدد امیدوار امتحانی مراکز تک پہنچنے سے قاصر رہے، اس لیے متاثرہ طلبہ کو متبادل شیڈول کے تحت امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے اور صورتحال معمول پر آنے تک امتحانات ملتوی کیے جائیں۔طلبہ نے وزیر تعلیم کے اس مبینہ بیان پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے امتحان دینے والے طلبہ کو "فارم چکن" قرار دیا تھا۔ مظاہرین نے اس بیان کو طلبہ کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کا آغاز ڈھاکہ کے سائنس لیب چوک سے ہوا، جہاں طلبہ نے سڑک پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دی۔ بعد ازاں مختلف کالجوں کے طلبہ بھی احتجاج میں شریک ہو گئے، جس سے مظاہرے کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق ڈھاکہ کے علاوہ باریسال، بوگرہ، راجشاہی، رنگ پور، نوگاؤں، کوریگرام، تانگیل، میمن سنگھ، کومیلا، سلہٹ اور سنم گنج سمیت متعدد شہروں میں بھی طلبہ نے امتحانات کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران طلبہ کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانی شیڈول پر دوبارہ غور کیا جائے تاکہ کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔