ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ، وزیر تعلیم کے استعفے پر ابھیجیت دیپکےکا چیف جسٹس کو پیغام

ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ، وزیر تعلیم کے استعفے پر ابھیجیت دیپکےکا چیف جسٹس کو پیغام

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہمیں کاکروچ کہنے کا شکریہ۔"

اپنے خطاب میں ابھیجیت دیپکے نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں "کاکروچ" نہ کہا جاتا تو وہ بوسٹن سے بھارت واپس نہ آتے اور یہ تحریک کبھی وجود میں نہ آتی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس تحریک کا آغاز 15 مئی کو سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک سماعت کے بعد ہوا، جب چیف جسٹس سوریا کانت نے سینئر ایڈووکیٹ کے عہدے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ کچھ نوجوان "کاکروچوں" کی طرح ہیں، جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی پیشے میں کوئی مقام حاصل ہوتا ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اشارہ بے روزگار نوجوانوں کی طرف نہیں بلکہ جعلی قانون کی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، تاہم ان کا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔اگلے ہی روز بوسٹن میں مقیم طالب علم اور عام آدمی پارٹی کے سابق کمیونیکیشنز اسٹریٹجسٹ ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس جماعت کو ان تمام نوجوانوں کا پلیٹ فارم قرار دیا جو بے روزگار ہیں، سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں اور حکومتی نظام پر تنقید کرتے ہیں۔

بعد ازاں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے معاملے پر عوامی غصہ بڑھنے کے ساتھ یہ مہم ایک وسیع احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ جون کے آغاز میں ابھیجیت دیپکے بھارت واپس آئے اور جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کی قیادت سنبھال لی۔تحریک کا بنیادی مطالبہ امتحانی بے ضابطگیوں پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا۔ 28 جون کو سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی، جو 26 روز بعد حکومت کی تحریری یقین دہانی کے بعد ختم ہوئی۔ حکومت نے یقین دلایا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے، پارلیمنٹ میں امتحانی اصلاحات اور احتساب پر غور ہوگا، جبکہ مبینہ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کی تجویز بھی زیر غور لائی جائے گی۔

سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ 20 جولائی کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کے باوجود احتجاج جاری رہا اور بالآخر حکومت کو شدید عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ طلبہ کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری کشیدہ صورتحال سے ملک دشمن عناصر فائدہ نہ اٹھا سکیں