شیخ محمدانور
میں نے 1984ء میں پاکستان ریلوے میں اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، والٹن ٹریننگ اسکول میں تربیت حاصل کی اور بعد ازاں گارڈ کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ پھر 1985سے پاکستان ریلوے پریم یونین کی ذمہ داریوں نے مجھے پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا دیا۔مجھے تفتان اور دالبندین کے بے آب و گیاہ میدانوں سے لے کر چمن اور شیلہ باغ کے پہاڑوں تک، لنڈی کوتل کی تاریخی وادیوں سے لے کر چک امرْو کے سرحدی علاقوں تک، پاکستان ریلوے کے ان خاموش سپاہیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو سخت ترین موسمی حالات، دشوار گزار راستوں اور سکیورٹی کے سنگین خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔یہ تحریر انہی مشاہدات، انہی تلخ حقیقتوں اور انہی کارکنوں کی قربانیوں کی داستان ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں پاکستان ریلوے کے نام کر دیں مگر جن کی مشکلات اور خدمات اکثر تاریخ کے اوراق میں جگہ نہیں پا سکیں۔
پاکستان ریلوے محض لوہے کی پٹڑیوں، انجنوں اور کوچز کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ، معیشت، دفاع اور قومی وحدت کی علامت ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے برصغیر کی تقسیم کے کٹھن ایام میں لاکھوں مہاجرین کو نئی منزلوں تک پہنچایا، جنگوں کے دوران افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا، سیلاب، زلزلوں اور قدرتی آفات کے دنوں میں قوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیا اور آج بھی ملک کے دور دراز علاقوں کو آپس میں جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔پاکستان ریلوے کو بجا طور پر ملک کی اقتصادی شہ رگ اور دفاعی قوت کا ایک مضبوط ستون کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس ادارے کے کئی شعبوں اور عہدوں کو انتہائی حساس اور ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی دور حکومت میں جن عہدوں کو Essential Categories کا درجہ دیا گیا تھا، ان میں ٹرین ڈرائیور، گارڈز، اسٹیشن ماسٹر، سگنل اسٹاف، پی ڈبلیو آئی، گینگ مین، گیٹ مین، پوائنٹس مین اور دیگر اہم تکنیکی شعبے شامل تھے۔انگریز حکمران شاید اس سرزمین کے مالک نہیں تھے لیکن انہیں یہ بخوبی احساس تھا کہ ریلوے جیسے ادارے کی حفاظت صرف مشینری سے نہیں بلکہ وفادار، تربیت یافتہ، مستقل اور ذمہ دار ملازمین سے ممکن ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان ملازمین کو خصوصی مراعات، مستقل ملازمت اور ڈیوٹی پوائنٹس کے قریب رہائش تک فراہم کی جاتی تھی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اسی ریلوے میں مستقل بھرتیوں کی جگہ کنٹریکٹ کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔آج اسٹیشن ماسٹر کنٹریکٹ پر بھرتی ہو رہا ہے۔ٹرین ڈرائیور کنٹریکٹ پر بھرتی ہو رہا ہے۔گارڈ کنٹریکٹ پر بھرتی ہو رہا ہے۔سب انجینئر کنٹریکٹ پر بھرتی ہو رہا ہے۔پی ڈبلیو آئی کنٹریکٹ پر بھرتی ہو رہا ہے۔ گینگ مین جیسے بنیادی اور حساس عہدوں کو بھی کنٹریکٹ کی بنیاد پر پْر کیا جا رہا ہے۔ ایک اور بہت اہم بات کہ وزارتِ ریلوے سترھویں اور اٹھارہویں سکیل کی نوکریاں بھی کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے جارہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک قومی ادارے کا مستقبل عارضی بنیادوں پر تعمیر کیا جا سکتا ہے؟کیا ایک ایسا شخص جو ہر وقت اپنی ملازمت کے خاتمے کے خوف میں مبتلا ہو، وہ اسی جذبے اور اطمینان کے ساتھ فرائض سرانجام دے سکتا ہے جیسا کہ ایک مستقل ملازم انجام دیتا ہے؟یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ادارے کے استحکام، قومی سلامتی اور عوام کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔کنٹریکٹ ملازم کی سب سے بڑی کمزوری اس کا غیر یقینی مستقبل ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ چند سال بعد شاید اس کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔وہ جانتا ہے کہ اس کی ملازمت کسی فائل، کسی سفارش یا کسی پالیسی کی تبدیلی کی نذر ہو سکتی ہے۔وہ جانتا ہے کہ اس کی برسوں کی محنت کے باوجود اسے مستقل ملازم کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔ایسی صورتحال میں اس کے اندر ادارے کے ساتھ وہ وابستگی اور احساس ملکیت پیدا نہیں ہو پاتا جو ایک مستقل ملازم میں ہوتا ہے۔ایک مستقل ملازم اپنے ادارے کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔وہ ادارے کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور ادارے کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتا ہے۔اس کے بچوں کے خواب، اس کے خاندان کی امیدیں اور اس کی پوری زندگی اس ادارے سے وابستہ ہو جاتی ہے۔مگر کنٹریکٹ ملازم کے ذہن میں ہر وقت ایک سوال گردش کرتا رہتا ہے:"اگر کل میرا کنٹریکٹ ختم ہوگیا تو میرا مستقبل کیا ہوگا؟"
یہ سوال صرف ایک فرد کو پریشان نہیں کرتا بلکہ اس کے کام، اس کی کارکردگی اور اس کی ذہنی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔پاکستان ریلوے ایک ملٹی ٹیکنیکل ادارہ ہے۔یہاں ریلوے ٹریک، سگنلنگ سسٹم، لوکوموٹیوز، پل، ورکشاپس، اسٹورز اور حساس تنصیبات موجود ہیں۔ایک ٹرین ڈرائیور کے ہاتھ میں سینکڑوں مسافروں کی جانیں ہوتی ہیں۔ایک اسٹیشن ماسٹر کے فیصلے پر درجنوں ٹرینوں کی نقل و حرکت منحصر ہوتی ہے۔ایک گارڈ پورے قافلے کی حفاظت اور نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ایک پی ڈبلیو آئی میلوں طویل ریلوے ٹریک اور کروڑوں روپے مالیت کے انفراسٹرکچر کا محافظ ہوتا ہے۔ایک گینگ مین شدید گرمی، سردی، بارش اور دھند میں ریلوے لائنوں کی نگرانی کرتا ہے تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔کیا ایسے حساس اور اہم فرائض عارضی بنیادوں پر انجام دینے والے افراد کے سپرد کرنا دانشمندی ہے؟دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے حساس اداروں میں مستقل بھرتیوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ادارہ جاتی وفاداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری وقت کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، چند سالہ معاہدوں سے نہیں۔پاکستان کو ا?ج اندرونی اور بیرونی دونوں قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ریلوے تنصیبات ماضی میں تخریب کاری کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور دیگر بعض علاقوں میں ریلوے ٹریک اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ایسے حالات میں حساس عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال، مستقل نگرانی اور ادارے کے ساتھ طویل المدتی وابستگی انتہائی ضروری ہے۔خدانخواستہ اگر کوئی معاشی مشکلات کا شکار فرد یا مستقبل سے مایوس ملازم کسی لالچ یا دبائو کا شکار ہو جائے تو اس کے نتائج صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ادارے اور ہزاروں مسافروں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بات کسی فرد یا طبقے پر الزام نہیں بلکہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔اسی لیے دنیا بھر کے حساس ادارے مستقل اور ذمہ دار افرادی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔پی ڈبلیو آئی کا شعبہ ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کے زیر
انتظام ریلوے ٹریک، پل، عمارات اور اسٹورز ہوتے ہیں۔ان اسٹورز میں کروڑوں روپے مالیت کی ریلیں، سلیپر، فش پلیٹس، بولٹس اور دیگر قیمتی سامان موجود ہوتا ہے۔اگر ایک کنٹریکٹ ملازم اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد ادارہ چھوڑ دیتا ہے یا کسی دوسرے شعبے میں چلا جاتا ہے تو اس دوران ہونے والی کسی بھی بے ضابطگی یا نقصان کی ذمہ داری کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔یہاں سوال فرد کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔اسی طرح گینگ مین ریلوے کے وہ خاموش سپاہی ہیں جنھیں شاید کبھی اخبارات کی سرخیاں نہیں ملتیں مگر ان کی محنت کے بغیر ایک بھی ٹرین اپنی منزل تک محفوظ نہیں پہنچ سکتی۔شدید گرمی میں جلتی ہوئی پٹڑیاں ہوں یا سردیوں کی دھند ا?لود راتیں، یہی لوگ پٹڑیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔یہ لوگ ریلوے کے اصل محافظ ہیں۔کیا ایسے افراد کو مستقل روزگار اور تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں؟برطانوی دور میں Essential Categories کے ملازمین کے لیے ایک اور اہم سہولت موجود تھی۔ان کے لیے ریلوے اسٹیشنوں اور ڈیوٹی پوائنٹس کے قریب رہائش گاہیں تعمیر کی جاتی تھیں۔اسٹیشن ماسٹر ریلوے اسٹیشن کے قریب رہتا تھا۔ٹرین ڈرائیور لوکو شیڈ کے قریب رہتا تھا۔گارڈ اور دیگر حساس شعبوں کے ملازمین بھی اپنے کام کی جگہ کے قریب رہائش رکھتے تھے۔ اس کا مقصد صرف سہولت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ ہنگامی حالات میں فوری رسائی کو یقینی بنانا تھا۔ اگر رات کے دو بجے کوئی حادثہ پیش ا? جائے یا کسی سگنل کی خرابی پیدا ہو جائے تو متعلقہ ملازم چند منٹوں میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتا تھا۔آج یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
میری حکومت پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور وزارت ریلوے سے درخواست ہے کہ Essential Categories کے ملازمین کے لیے ایک مرتبہ پھر اسٹیشنوں اور ورکنگ پوائنٹس کے قریب جدید رہائشی کالونیاں تعمیر کی جائیں۔یہ اخراجات نہیں بلکہ قومی سلامتی میں سرمایہ کاری ہوگی۔خاص طور پر بلوچستان کے حالات اس حوالے سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔یہ جغرافیائی لحاظ سے حساس اور دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔وہاں ریلوے کی لائنیں صرف ٹرانسپورٹ کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی رابطے، دفاعی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔اسی بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے دس پی ڈبلیو ا?ئی صاحبان کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا۔ان نوجوانوں نے اپنی محنت، صلاحیت اور وفاداری کا ثبوت دیا۔انہوں نے مشکل حالات میں فرائض انجام دیے۔مگر جب ان کے مستقبل اور ملازمت کے تحفظ کا سوال ا?یا تو انہیں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑے۔انہوں نے فیڈرل سروس ٹریبونل سے رجوع کیا۔وہاں سے انہیں انصاف ملا۔پاکستان ریلوے نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔مگر سپریم کورٹ نے بھی ان ملازمین کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔اس کے باوجود آج تک انہیں مستقل نہیں کیا گیا۔یہ سوال ہر انصاف پسند انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی ان ملازمین کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے تو پھر تاخیر کیوں؟کیا یہ ان نوجوانوں کی محنت کا صلہ ہے؟کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟کیا یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور نہیں کرتا؟یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی، انسانی اور انتظامی مسئلہ بھی ہے۔ایک نوجوان جب اپنی زندگی کے قیمتی سال کسی ادارے کو دیتا ہے تو وہ صرف تنخواہ نہیں لیتا بلکہ اپنے خواب، اپنی امیدیں اور اپنے مستقبل کو بھی اس ادارے کے ساتھ وابستہ کر لیتا ہے۔اگر برسوں بعد اسے یہ بتایا جائے کہ تم اب بھی عارضی ہو تو یہ صرف ملازمت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی عزت نفس کا مسئلہ بھی بن جاتا
ہے۔
پاکستان ریلوے کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ہزاروں ملازمین نے اس ادارے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔بہت سے لوگ دوران ڈیوٹی حادثات کا شکار ہوئے۔بہت سے افراد شہید ہوئے۔کئی معذوری کا شکار ہو گئے۔مگر ان کے دلوں میں ادارے کے لیے محبت اور وابستگی موجود رہی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ادارہ ان کا اپنا ادارہ ہے۔کنٹریکٹ کلچر اس احساس ملکیت کو کمزور کرتا ہے۔یہ ملازم اور ادارے کے درمیان اعتماد کے رشتے کو متاثر کرتا ہے۔ایک ادارہ صرف عمارتوں اور مشینوں سے نہیں چلتا بلکہ انسانوں سے چلتا ہے۔اگر انسان غیر محفوظ ہوں تو ادارے بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے ادارے مستقل افرادی قوت، مسلسل تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ تجربہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ایک اسٹیشن ماسٹر کو بہترین اسٹیشن ماسٹر بننے میں برسوں لگتے ہیں۔ایک ٹرین ڈرائیور کی مہارت وقت اور تجربے سے نکھرتی ہے۔ایک پی ڈبلیو ا?ئی کی فنی صلاحیتیں میدان میں کام کرتے ہوئے پروان چڑھتی ہیں۔اگر ہر چند سال بعد افراد تبدیل ہوتے رہیں تو ادارہ اپنی اجتماعی یادداشت اور تجربہ کھو دیتا ہے۔پاکستان ریلوے پہلے ہی وسائل، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کے مسائل سے دوچار ہے۔ایسے میں مستقل اور تجربہ کار افرادی قوت ہی اسے دوبارہ عروج کی طرف لے جا سکتی ہے۔
میں وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر ریلوے، چیئرمین ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے اور متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کرتا ہوں ریلوے کی تمام Essential Categories میں کنٹریکٹ بھرتیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ٹرین ڈرائیور، گارڈ، اسٹیشن ماسٹر، پی ڈبلیو آئی، سب انجینئر، گیٹ مین، پوائنٹس مین اور گینگ مین جیسے عہدوں پر مستقل بنیادوں پر بھرتیاں کی جائیں۔ پہلے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اہل اور تجربہ کار ملازمین کو مرحلہ وار ریگولر کیا جائے۔بلوچستان کے اِن دس پی ڈبلیو آئی صاحبان سمیت تمام ایسے ملازمین جن کے حق میں عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں، انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے۔Essential Categories کے ملازمین کے لیے ریلوے اسٹیشنوں کے قریب رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں۔حساس شعبوں میں تربیت، سکیورٹی کلیئرنس اور احتساب کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔ پاکستان ریلوے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی میراث ہے۔یہ ادارہ ہمارے ماضی کی یادگار، حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید ہے۔اس کے محافظوں کو عارضی نہیں بلکہ مستقل اعتماد کی ضرورت ہے۔کیونکہ جب ایک ملازم خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے تو وہ ادارے کی حفاظت بھی دل و جان سے کرتا ہے۔ جب ادارے کے محافظ محفوظ ہوں گے تو ادارہ محفوظ ہوگا اور جب ادارہ محفوظ ہوگا تو قوم کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم وقتی بچت اور عارضی پالیسیوں سے آگے بڑھ کر طویل المدتی قومی مفادات کو ترجیح دیں۔ ریلوے کی پٹڑیوں پر دوڑتی ہوئی ہر ٹرین صرف مسافروں کو منزل تک نہیں پہنچاتی بلکہ یہ قوم کے اعتماد، ترقی اور یکجہتی کو بھی اپنی منزل تک لے جاتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پٹڑیوں کے محافظوں کو بھی مستقل منزل، مستقل شناخت اور مستقل تحفظ فراہم کیا جائے۔کیونکہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ ان لوگوں سے مضبوط ہوتی ہیں جو اِن اداروں کی حفاظت کرتے ہیں اور پاکستان ریلوے کے یہ محنت کش، یہ گینگ مین، یہ اسٹیشن ماسٹر، یہ ڈرائیور، یہ گارڈ اور یہ پی
ڈبلیو آئی دراصل اس قومی اثاثے کے اصل محافظ ہیں۔ انہیں عارضی نہیں بلکہ مستقل اعتماد، مستقل عزت اور مستقل مستقبل دیا جانا چاہیے۔