چودھری فرحان شوکت ہنجرا
اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر ہے کہ رب باری تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت پر غالب کیا اور فتح سے ہم کنار کیا افواج پاکستان نے بھارت کو ایسا دندان شکن ردعمل دیا ہے کہ وہ اپنے زخموں کو چاٹتا رہے گا اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ دوقومی نظریہ نے قوم کو متحد کردیا
پاکستان ریلوے نے جنگ کے دوران بھی اپنا آپریشن جاری رکھا اور افواج پاکستان کے دفاعی سازو سامان کی ترسیل کو بروقت منزل مقصود پر پہنچایا جب فضائی آپریشن معطل روڈ ٹرانسپورٹ محدود تھی ریلوے کا پہیہ چلتا رہا اور ریلوے نے فوجی سازو سامان کی نقل و حمل میں سو فیصد کامیابی حاصل کی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھی ریلوے نے اقدامات کر رکھے تھے جو کہ بہت ہی حوصلہ افزا بات ہے
پاکستان ریلوے قومی وحدت کی علامت ہے اور پاکستان کی یکجتی کی زنجیر ہے
پاکستان ریلوے کا چک امرو نارووال سیالکوٹ سیکشن پر قومی دفاعی اعتبار سے اہم سیکشن ہے اور اب تو کرتار پور راہداری منصوبے کی بدولت اس کی افادیت میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے لیکن عرصہ دراز سے چک امرو ریلوے سیکشن اپنی آب وتاب سے بحالی کا منتظر ہے
پاک بھارت حالیہ جنگی صورتحال میں پاک فوج کے دفاعی سازو سامان کی ترسیل ریلوے کے زریعے نارووال۔چونڈہ۔پسرور۔سیالکوٹ تک تو ہوئی لیکن پاک بھارت بارڈر پر شکرگڑھ۔ظفروال سیکٹر پر فوجی دفاعی سازو سامان کی ترسیل چک امرو ریلوے ٹریک کے غیر فعال ہونے سے نہ ہوسکی چک امرو سیکشن کی بحالی سے جہاں پاکستان ریلویز دفاعی سازو سامان کی ترسیل سے اپنے بزنس کو بڑھا سکتا ہے وہاں دوسری جانب مقامی ابادی اور ملکی و غیر ملکی سکھ برادری کی کرتار پور آمد سے اپنے ٹرین آپریشن سے خطیر ریونیو حاصل کر سکتا ہے سکھ یاتریوں کیلئے سپیشل ٹرین بھی چلائی جا سکتی ہے
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ لاہور نارووال سیالکوٹ سیکشن پر چک امرو سیکشن کی بحالی پر ورکنگ گروپ تشکیل دیں اور چک امرو سیکشن کی بحالی اس کی دفاعی۔ قومی۔عوامی سماجی اور بزنس کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب کو اعتماد میں لے کر وزیر اعظم پاکستان سے اس سیکشن کی بحالی کا افتتاح کرائیں ماضی قریب میں چک امرو سیکشن کی بحالی کیلئے مشینری بھی آگئی تھی لیکن نجانے پھر اس سیکشن کی بحالی پر کام روک دیا گیا لہذا قومی دفاع اور عوامی سہولیات کے پیش نظر چک امرو سیکشن کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے اپنی ٹیم کے ساتھ اخلاصِ نیت کے ساتھ اقدامات کر رہے ہیں اگر چک امرو سیکشن نارووال سے لاہور ٹریک کی اپ گریڈیشن اور اس سیکشن پر گڈز ٹرینیں چلانے کا اہتمام کر دیں تو اندرون اور بیرون ملک چاول کر ترسیل سے ریلوے کو 60 ارب روپے کا بزنس مل سکتا ہے ریلوے کے زریعے چاول کی ترسیل کراچی سمیت دیگر پورٹس اور ڈرائی پورٹس پر باآسانی محفوظ اور روڈ گڈز ٹرانسپورٹ کی نسبت قدرے سستی ہونے سے ریلوے خسارے سے نکل سکتا ہے
پاکستان ریلوے اپنی تمام ٹرینوں میں کمرشلز اشتہارات کے زریعے سالانہ اربوں روپے کا ریونیو حاصل کر سکتا ہے ٹرینوں کے دروازوں کھڑکیوں ڈائنگ ٹرینوں کے بیرونی باڈی ریلوے اسٹیشنوں اہم مقامات پر ایڈورٹائزنگ بل بورڈز کی بڑی گنجائش موجود ہے حتیٰ کہ ریلوے انجنز کے فرنٹ پوائنٹ پر ایڈورٹائزنگ کی جگہ مہیا کی جاسکتی ہے ریلوے حکام ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کو اپنی پراڈکٹس کی ایڈورٹائزنگ کیلئے مدعو کر سکتا ہے لہذا ریلوے کے کمرشلائز شعبہ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے
وفاقی وزیر ریلوے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے عوامی مفاد عامہ میں گزارش ہے کہ لاہور نارووال سیکشن پر 217اپ 212 ڈاؤن اور اسی طرح سیالکوٹ ایکسپریس کو بحال کرنے کا اعلان کریں عوام الناس کا ہر طبقہ ان ٹرینوں کی بحالی کیلئے ہر فورم پر مطالبہ کر رہا ہے اب عوامی حکومت ہے اور عوامی وفاقی وزیر عوام کے جائز دیرینہ خواہش کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان ٹرینوں کی بحالی کے احکامات صادر فرمائیں اور نارووال پسنجر 211اپ 212 ڈاؤن ٹرین کے روٹ کو سیالکوٹ تک کی منظوری عنایت فرمائیں
پاکستان ریلوے میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کی نمائندہ تنظیم پریم یونین ریلوے ملازمین کے مسائل حل کرنے کیلئے مرکزی صدر شیخ محمد انور کی قیادت میں فعال کردار ادا کر رہی ہے پریم یونین پاکستان کے صدر شیخ محمد انور ریلوے کی ترقی اور ریلوے ورکرز کے مسائل کے حل کیلئے ریلوے انتظامیہ کے ساتھ اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے دن رات کوشاں ہیں ریلوے حکام ریلوے ورکرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں