ذاتی اختلافات ختم کریں اور تحریک پر مکمل توجہ دیں: بانی کی ہدایت،عالیہ معافی مانگیں ورنہ کارروائی ہوگی : سلمان اکرم

تحریک انصاف میں اختلافات  عہدہ چھوڑنے کی دھمکی  عالیہ حمزہ
پی ٹی آئی رہنما ایک دوسرے پر گرجتے برستے رہے تین سو پارلیمینٹیرینز کے لاہور جانے پر خوشی ہوئی، جو اختلاف پیدا کرے گا، میں خود اس سے نمٹ لوں گا، بانی کی گفتگو
 عمران کو تمام سہولتیں میسر ، اب تک 413 بار ٹویٹ کروایا گیا: سپرنٹنڈنٹ ،22 گھنٹے تنگ و گرم کوٹھری میں بند رہتے ہیں: پارٹی ترجمان

راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما ایک دوسرے پر گرجتے برستے رہے۔ بانی تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ لاہور اجلاس کے حوالے سے پارٹی میں اختلافات جان بوجھ کر پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی اختلافات ختم کریں اور تحریک پر مکمل توجہ دیں۔ یہ بات علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔علیمہ خان نے بتایا کہ بانی نے دو پیغامات دیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ٹی وی اور اخبارات بند کیے گئے ہیں۔ مزید کہا کہ تین سو پارلیمینٹیرینز کا لاہور میں مل کر جانا خوش آئند ہے۔ جو کوئی پارٹی میں اختلاف پیدا کرے گا، میں خود اس سے نمٹوں گا۔ ہم جیلوں میں بیٹھے ہیں اور آپ اختلافات پیدا کر رہے ہیں۔علیمہ خان نے کہا کہ ہم یہاں دو سال سے جیل آ رہے ہیں۔ بانی کے کیسز سن لیے جائیں تو بات ختم ہو جائے گی۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے بیان کی وضاحت کی اور کہا کہ وہ صرف روٹین کی بات کر رہے تھے، جس کا مطلب تھا کہ 90 دن میں کچھ نہ کچھ ہوگا " آر ہوگا یا پار"۔ بانی پی ٹی آئی کی کال پر تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کا عروج پانچ اگست کو ہوگا۔سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر تحریک سے متعلق کوئی اجلاس بلانا تھا تو عالیہ حمزہ کو پہلے اطلاع دینی چاہیے تھی کیونکہ وہ پنجاب کی چیف آرگنائزر ہیں۔ نوے دن کی بات پر پارٹی میں الجھن ہے اور اس کی وجہ بانی سے رابطے کا نہ ہونا ہے۔پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ چیف آرگنائزر پنجاب مصروف ہیں، میں نے عالیہ حمزہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ سینیٹ انتخابات کے لیے ابھی تک بانی نے کسی کو نامزد نہیں کیا۔ سینیٹ میں چار سیٹیں ہمیں مل رہی ہیں ، ایک جنرل، ایک خواتین، اور ایک ٹیکنوکریٹ کی سیٹ۔ ابھی تک کوئی فائنل لسٹ تیار نہیں ہوئی۔قبل ازیں اڈیالہ جیل میں ملاقات کے روز، بانی پی ٹی آئی سے دو بہنوں نے ملاقات کی جبکہ مشیر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے بھی ملاقات کی۔ بشریٰ بی بی سے ان کی بھابھی مہر النسا نے ملاقات کی، تاہم علیمہ خان کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کا روز تھا۔ بانی پی ٹی آئی سے دو بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی نے ملاقات کی، علیمہ خان کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ اس کے علاوہ مشیر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف اور چودھری ظہیر عباس نے بھی ملاقات کی۔بیرسٹر سیف بغیر پیشگی شیڈول کے اڈیالہ جیل پہنچے، جیل گیٹ پر اپنی آمد کی اطلاع دی، لیکن اجازت نہ ملنے پر واپس چلے گئے۔ کچھ دیر بعد اجازت ملنے پر دوبارہ آئے اور پیدل جیل کے اندر روانہ ہوئے۔ ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا۔تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو دی گئی احتجاجی کال پر مرکزی اور پنجاب قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے احتجاج نہ کرنے کی صورت میں عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر مرکزی رہنما 90 دن کے اندر "فائنل احتجاج" کی کال پر قائم ہیں، تاہم عالیہ حمزہ 5 اگست کو احتجاج کی کال پر ڈٹی ہوئی ہیں۔عالیہ حمزہ کا م ئوقف ہے کہ پارٹی کو اپنے اعلان پر قائم رہنا چاہیے اور وہ پنجاب میں 5 اگست کو احتجاج کی کال دے سکتی ہیں۔ تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عالیہ حمزہ کا کام ٹویٹ کرنا نہیں، انہیں معافی مانگنی چاہیے ورنہ کارروائی ہو سکتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 90 دن کی ڈیڈ لائن کی کوئی حیثیت نہیں، میں اسے مسترد کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا آفریدی کے فارم ہا ئوس جانے سے میرا کوئی تعلق نہیں، اور تحریک انصاف کسی کو پیسے کے بدلے سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دے گی۔اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں بی کلاس کی تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور وہ اپنی پسند کا کھانا قیدی سے تیار کرواتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ کے بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو سائیکل، ایل ای ڈی، اخبارات اور ذاتی کتب کی سہولت دستیاب ہے، اور کھانا تیار کرنے کے لیے قیدی معاون بھی فراہم کیا گیا ہے۔ دیگر بی کلاس قیدیوں کو یہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ عمران خان نے اب تک 413 بار ٹویٹ کیا ہے جبکہ اہم سیاسی ہدایات اور بیانات ٹویٹر کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔ 145 مواقع پر ان کے بیانات ملکی میڈیا کی سرخیوں میں شامل رہے۔جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق عمران خان نے 10 بین الاقوامی میڈیا چینلز سے بھی بات چیت کی ہے اور گزشتہ تین ماہ میں 66 افراد سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں کسی بیماری یا عارضے کی رپورٹ نہیں ہے، عمران خان روزانہ دو گھنٹے واک اور ایکسرسائز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔جیل حکام نے مزید واضح کیا کہ جیل انتظامیہ اپنے فرائض منصبی بھرپور طریقے سے انجام دے رہی ہے۔ادھر تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی وضاحت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "من گھڑت، سیاسی دبا ئو میں لکھی گئی اور حقائق سے عاری تحریر" قرار دیا ہے۔پارٹی ترجمان کے مطابق اس وضاحت کا مقصد عمران خان پر جاری غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنا ہے۔ تحریک انصاف نے جیل انتظامیہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کو 413 ملاقاتوں کی اجازت دی گئی۔پارٹی کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے، متعدد مواقع پر وکلا، اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اور کئی بار فہرست میں شامل افراد کو جیل کے دروازے سے ہی واپس لوٹا دیا گیا۔ترجمان کے مطابق عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی بارہا ملاقات سے محروم رکھا گیا۔ عمران خان کو نہ ٹی وی، نہ اخبار، اور نہ ہی ذاتی مطالعہ کی کتابیں دی جاتی ہیں۔ وہ 22 گھنٹے روزانہ ایک تنگ و گرم کوٹھری میں بند رہتے ہیں جہاں درجہ حرارت اوون جیسا ہوتا ہے۔پارٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو گزشتہ 11 ماہ سے اپنے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان کی بہنوں کے مطابق ان کا وزن تشویشناک حد تک کم ہو چکا ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ عمران خان کی طبیعت بگڑتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اداروں پر عائد ہوگی۔ترجمان نے انکشاف کیا کہ حالیہ ملاقات میں وکیل کو صرف ڈیڑھ منٹ کی اجازت دی گئی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مختلف مقدمات میں دائر چھ ضمانت کی درخواستوں پر ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں سماعت نہ ہو سکی، جبکہ بشریٰ بی بی کی ایک قبل از گرفتاری ضمانت پر فیصلہ بھی موخر کر دیا گیا۔ عدالت نے تمام ضمانتیں 9 ستمبر تک ملتوی کر دیں۔عمران خان کے خلاف احتجاج، توڑ پھوڑ، اقدام قتل اور توشہ خانہ کیس سمیت متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں جعلی رسیدیں جمع کرانے کا الزام بھی شامل ہے۔دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج عامر ضیاء￿  کی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 9 ستمبر تک توسیع کر دی۔ ان کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی 24 اور 26 نومبر کے 10 سے زائد مقدمات میں دائر عبوری ضمانتوں کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے انہیں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔عدالت کے مطابق ان کی اور وکیل کی عدم پیروی کے باعث ضمانتیں خارج کی گئیں۔مزید بر آں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے 4 اکتوبر کے احتجاج کیس میں غیر حاضر پی ٹی آئی کارکنوں کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کر دی۔اعظم سواتی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی، جس پر تھانہ شہزاد ٹا ئون کا کیس 23 جولائی، جبکہ تھانہ نون کا کیس 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔عدالت نے تھانہ ترنول کے کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ عمر ایوب کا چالان دیکھ کر آئندہ تاریخ دی جائے گی۔ اس مقدمے میں 93 سے زائد پی ٹی آئی کارکن نامزد  ہیں۔تھانہ کوہسار کے 26 نومبر کے مقدمے میں بھی سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ملزمان کی حاضری دیکھ کر آئندہ تاریخ مقرر کی جائے گی۔