گرین ٹائون پولیس نے ساجد نواز کو عدالت میں پیش کیا،عدالت کے حکم پر ہتھکڑی کھول دی گئی
کون سا جرم کیا ہے، اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہر شخص کا حق ہے‘حکومت نے میری بات کو برداشت کیا
میرے الفاظ سے ریاست نے لوگوں کی تکالیف کو سمجھا ہوگا ‘ ایک دکھا ہوا شخص ہی بولتا ہے :رہائی کے بعد ساجد کی گفتگو
لاہور (آئی این پی‘یو این پی )لاہور کی عدالت نے شہری ساجد کے وزیراعلی پنجاب اور آرمی چیف کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے کے معاملے پر بنائے گئے مقدمے سے شہری کو ڈسچارج کر دیا۔ لاہور کی سیشن کورٹ میں گزشتہ روز ساجد نواز کے بیٹے نے اپنے والد کی بازیابی کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے پولیس حکام کو ملزم کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔منگل کے روز تھانہ گرین ٹائون پولیس نے ساجد نواز کو عدالت میں پیش کیا، عدالتی حکم پر پولیس نے شہری کی ہتھکڑیاں کھول دیں، فاضل جج نے شہری کو مقدمے سے بری کر دیا۔ساجد نامی شہری کے خلاف تھانہ گرین ٹائون پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ دریں اثناء رہائی کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے شہری ساجد نواز نے کہا میں نے کون سا جرم کیا ہے، اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہر شخص کا حق ہے، حکومت نے بہت صبر سے میری بات کو برداشت کیا، ریاست نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس کو منفی نہیں لیا بلکہ امید ہے میرے الفاظ سے ریاست نے لوگوں کی تکالیف کو سمجھا ہوگا کیوں کہ ایک دکھا ہوا شخص بولتا ہے ورنہ تو ہمارے لیے ہر ادارہ قابل احترام ہے۔لاپتہ ہونے سے متعلق سوال پر شہری نے جواب دیا کہ جہاں مجھے رکھا گیا وہاں بہت اچھا ماحول تھا، تمام ادارے بہت اچھے ہیں، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے اسی لیے مثبت بتایا ہے کیوں کہ میں بہت مطمئن ہوں، جب کسی نے کوئی جرم نہ کیا ہو تو پھر خوشی ہی ہوتی ہے، میں نے تو اپنے جذبات کا صرف اظہار کیا ہے، اس معاملے میں تو میرا خیال ہے رہاست کا بھی بہت بڑا دل ہے اور ریاست نے یہ ثابت بھی کیا ہے کہ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ بڑے دل والے ہیں۔