تفتیش میں تاخیر ختم کرنے کیلئے نیا نظام متعارف

لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب میں جنسی جرائم کے مقدمات کی تفتیش میں تاخیر ختم کرنے کے لیے نیا نظام متعارف کرانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے انویسٹی گیشن یونٹس کے قیام کے لیے سروے مکمل کر لیا ہے جبکہ صوبے بھر میں جنسی زیادتی کے مقدمات کا تفصیلی ریکارڈ بھی مرتب کر لیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے مطابق جنسی زیادتی کے متعدد مقدمات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تاحال ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کو طویل انتظار کا سامنا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت جنسی زیادتی کے کیسز کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ڈی کا خصوصی یونٹ کام کرے گا، جو جدید خطوط پر تحقیقات کو یقینی بنائے گاپولیس اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پنجاب بھر میں جنسی زیادتی کے 13 ہزار 820 مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے جہاں 1576 خواتین اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ فیصل آباد 945 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ گوجرانوالہ میں 789 اور خانیوال میں 724 جنسی استحصال کے کیسز رپورٹ ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے نفاذ سے نہ صرف مقدمات کی تفتیش میں تیزی آئے گی بلکہ ملزمان کی بروقت گرفتاری کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا، جس سے جنسی جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔