مامتا بینر جی اور اشوک پنڈت کا سیف علی خان پر حملے کی مذمت، اداکاروں کی حفاظت پر سوالات

مامتا بینر جی اور اشوک پنڈت کا سیف علی خان پر حملے کی مذمت، اداکاروں کی حفاظت پر سوالات

مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ مامتا بینر جی نے بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کے گھر پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے، جس میں سیف علی خان زخمی ہوئے۔

 انہوں نے اس واقعے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے نے اداکاروں کی حفاظت کے حوالے سے مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں کچھ سیاہ پہلو بھی موجود ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مامتا بینر جی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ٹوئٹ میں کہا، "قانون کو اپنا راستہ بنانا چاہیے، اور میری دعائیں سیف علی خان کے ساتھ ہیں تاکہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔" ان کی جانب سے یہ ٹوئٹ اس بات کا اظہار تھا کہ ریاستی حکام کو اس کیس کی تحقیقات میں تیزی لانی چاہیے تاکہ اس حملے کے پیچھے کی حقیقت کا پتہ چل سکے۔بھارتی میڈیا میں اس حملے کو لے کر اداکاروں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت کے بڑے ناموں جیسے شاہ رخ خان، سلمان خان، اور سیف علی خان کی سیکیورٹی پر کیسے حملہ آوروں کا حملہ ممکن ہو سکتا ہے۔

اسی دوران، ہندوستانی فلم اور ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اشوک پنڈت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ جب بھارتی ایجنسیاں اور سیکیورٹی اہلکار ایسے سوسائٹی کمپلیکس میں موجود ہوں، تو ایک مداخلت کار 12 ویں منزل تک کس طرح پہنچا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے اداکاروں کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، اور اس کی تحقیقات میں مزید تیزی لانی چاہیے تاکہ ایسی صورتحال دوبارہ نہ ہو۔اس واقعے نے نہ صرف سیف علی خان بلکہ پوری بالی ووڈ انڈسٹری میں سیکیورٹی کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے، اور حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اداکاروں اور مشہور شخصیات کی حفاظت کو مزید مؤثر بنائیں۔