بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد نے 32 حلقوں کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں باضابطہ شکایات جمع کرائی ہیں۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی اتحاد نے واضح اکثریت حاصل کی اور 212 نشستیں جیتیں، جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 77 نشستیں حاصل ہوئیں۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ نومنتخب ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری منگل کو متوقع ہے۔جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ابتدائی طور پر شکست تسلیم کی تھی، لیکن اتوار کو پارٹی رہنماؤں نے مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات جمع کرائیں۔ سینئر رہنما حمید الرحمٰن آزاد نے الزام لگایا کہ امیدواروں کو غیر منصفانہ طور پر ہرایا گیا اور ووٹنگ کے دوران جعلی ووٹ، رشوت، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔
پولیس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران پانچ افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ نتائج کے بعد بھی کچھ علاقوں میں جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے انتخابات سے پہلے اور بعد میں تشدد کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ اہلکار تعینات اور تربیت دی تھی۔انتخابات میں 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ ہوئی، مجموعی ٹرن آؤٹ تقریباً 59 فیصد رہا۔ براہِ راست منتخب ہونے والی خواتین کی تعداد سات رہی، جبکہ خواتین کی مخصوص 50 نشستیں جماعتوں کو ووٹ شیئر کے مطابق دی جائیں گی۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے چار امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں دو ہندو شامل ہیں۔