لاہور میں اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سقوطِ ڈھاکا کے سانحے کے پس منظر میں جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جس مقصد اور وعدے کے تحت قائم ہوا تھا، وہ نظام آج تک نافذ نہیں ہو سکا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ملک میں انگریزوں کا مسلط کردہ نظام برقرار رہا جس کے باعث عوام کے ساتھ ناانصافیاں بڑھتی گئیں۔ ان ناانصافیوں سے دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھایا اور بالآخر ملک کو دولخت کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب تک عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظام قائم نہیں کیا جاتا، ایسے المناک سانحات کو روکا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سقوطِ ڈھاکا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم، جبر اور ناانصافی پر مبنی نظام سے نجات حاصل کرنا ناگزیر ہے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں حقیقی انصاف، مساوات اور عوامی حقوق کے تحفظ کے بغیر قومی وحدت اور استحکام ممکن نہیں، اور یہی سقوطِ ڈھاکا کا سب سے بڑا پیغام ہے۔