بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے طلبا سے سوشل میڈیا پر خطاب کے بعد ملک میں شدید احتجاج پھوٹ پڑا۔
مظاہرین نے احتجاج کے دوران بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے آبائی گھر کو نذر آتش کر دیا اور شیخ حسینہ کے فیملی میوزیم کو بھی توڑ ڈالا۔ احتجاج کرنے والے طلبا نے میوزیم کے خلاف بلڈوزر مارچ کا اعلان بھی کیا۔شیخ حسینہ نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ "ایک عمارت کو مٹایا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔" وہ اگست 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں اور ایک بڑے طلبہ احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھیں۔ شیخ حسینہ نے اپنے والد کے گھر پر حملے کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "اس گھر سے ڈرنے کی کیا وجہ ہے؟ میں بنگلہ دیش کے عوام سے انصاف مانگتی ہوں۔ کیا میں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا؟ پھر یہ بے عزتی کیوں؟"انہوں نے مزید کہا کہ "یہ وہ واحد یادیں ہیں جو میری بہن اور میں نے سنبھال کر رکھی تھیں، مگر اب انہیں مٹایا جا رہا ہے۔" شیخ حسینہ نے خبردار کیا کہ "تاریخ اپنا انتقام ضرور لیتی ہے۔"اس احتجاج نے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور یہ واقعہ بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ لے آیا ہے۔