ہالی ووڈ کے اداکار و فلم ساز راب رائنر کے بیٹے پر والدین کے قتل کا شبہ، گرفتار

ہالی ووڈ کے اداکار و فلم ساز راب رائنر کے بیٹے پر والدین کے قتل کا شبہ، گرفتار

ہالی ووڈ کے  اداکار اور فلم ساز راب رائنر کے خاندان سے جڑا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ان کے بیٹے کو والدین کے قتل کے شبہے میں گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

 اس واقعے نے امریکی فلم انڈسٹری اور عوامی حلقوں میں گہرے صدمے اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔لاس اینجلس پولیس کے مطابق 32 سالہ نک رائنر کو اتوار کی شب حراست میں لیا گیا اور قتل کے الزام میں کاؤنٹی جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ تاحال ضمانت کے بغیر زیرِ حراست ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے سے متعلق شواہد منگل کے روز ڈسٹرکٹ اٹارنی کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جس کے بعد باضابطہ فردِ جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔پولیس کے مطابق راب رائنر اور ان کی اہلیہ مشیل رائنر کو اتوار کی دوپہر لاس اینجلس کے پوش علاقے برینٹ ووڈ میں واقع ان کے گھر سے مردہ حالت میں پایا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دونوں کو قتل کیا گیا اور اس واقعے میں ان کا بیٹا نک رائنر ملوث ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول جوڑے کی بیٹی سب سے پہلے گھر پہنچی، جہاں والدین کی لاشیں دیکھ کر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ رپورٹس کے مطابق نک رائنر ماضی میں منشیات کے استعمال اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں اور وہ مختلف مواقع پر نشے کی لت اور بے گھری کے ادوار کے بارے میں کھل کر بات کر چکے ہیں۔2016 میں ایک انٹرویو کے دوران نک رائنر نے بتایا تھا کہ انہوں نے 15 برس کی عمر میں پہلی بار نشے کے علاج کے لیے بحالی مرکز کا رخ کیا اور بعد ازاں کم از کم 17 مرتبہ مختلف ری ہیب سینٹرز میں داخل رہے۔ انہی ذاتی تجربات کی بنیاد پر فلم Being Charlie بنائی گئی، جسے نک رائنر نے اپنے والد کے ساتھ مل کر تحریر کیا تھا۔

78 سالہ راب رائنر ہالی ووڈ کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے When Harry Met Sally، The Princess Bride، Stand by Me، Misery اور A Few Good Men جیسی یادگار فلموں کی ہدایت کاری کی۔ وہ سیاسی طور پر بھی سرگرم رہے اور لبرل نظریات کے حامی کے طور پر جانے جاتے تھے۔