سربراہ عوامی مسلم لیگ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات پر تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن ان کے خیال میں اس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔
شیخ رشید نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ "قبر ایک اور بندے دو ہیں اور صرف ایک نے اندر جانا ہے" یعنی یہ مذاکرات صرف وقت کی ضیاع ثابت ہوں گے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ 26 نومبر کو ہونے والی سیاسی صورت حال کو "خوفناک اور دہشت ناک ظلم و ستم" قرار دیا اور اس دن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ 30 دسمبر تک ملک میں عدم استحکام برقرار رہے گا۔ انہوں نے سعودی عرب سے اپنی حالیہ واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہر شخص پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے طویل ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ "ہم دونوں ایک ہیں اور ہمارا مقصد 11 ہے، جو بہتری کا نمبر ہے"۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حالات سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں، لیکن بہتری کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کے حامی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا میں جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں۔شیخ رشید نے اپنی بات چیت میں یہ بھی کہا کہ ان کا ایک ہی تعلق ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی سے ہے، باقی کسی اور شخصیت سے ان کا تعلق نہیں ہے۔