پاک۔بنگلہ دیش دفاعی تعلقات کے نئے دور کا آغاز

 ملک فیصل منیر
پاکستان اور بنگلہ دیش دو ایسی برادر اسلامی ریاستیں ہیں جنہیں مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخ نے ایک مضبوط رشتہ میں باندھ رکھا ہے۔ ایک ہی نظریاتی بنیاد سے جنم لینے والی ان دونوں اقوام نے وقت کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ پائیدار امن، ترقی اور علاقائی استحکام کا راز باہمی احترام، تعمیری رابطے اور خاص طور پر دفاعی و سلامتی کے شعبے میں مضبوط تعاون میں پوشیدہ ہے۔دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں جہاں عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری بھی اہمیت اختیار کرچکی ہے، وہاں پاکستان کی عسکری قیادت نے نہ صرف میدانِ جنگ میں شاندار کامیابی حاصل کی بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی اپنی بصیرت اور حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان کا وقار بلند کیا۔ ــ
حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے ضمن میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد نجم الحسن، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان، اور پرنسپل اسٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم کمرال حسن سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ تعلقات باہمی احترام اور مساوات کی بنیاد پر مزید مضبوط ہوں گے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سلہٹ میں اسکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیکلٹی اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جدید فوجی تربیت اور مشترکہ سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بنگلہ دیشی سول و ملٹری قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار، قربانیوں اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کے فروغ، مشترکہ مشقوں کے انعقاد، انسدادِ دہشت گردی میں اشتراکِ عمل، اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ نیا تعاون جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے اسٹریٹیجک ماحول میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، جہاں پاکستان وسطی و جنوبی ایشیا کے سنگم پر جبکہ بنگلہ دیش خلیج بنگال اور بحرِ ہند کے دہانے پر واقع ہے۔ ان کی مشترکہ کاوشیں علاقائی امن، استحکام اور معاشی رابطوں کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی ترقی تصادم نہیں بلکہ تعاون میں پوشیدہ ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی تعلقات کا فروغ اسی وڑن کی عکاسی کرتا ہے ایک ایسا وڑن جو امن، باہمی اعتماد اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ مستقل مکالمہ، باقاعدہ تبادلے، اور مشترکہ تربیتی پروگرامز سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ یہ شراکت نہ صرف دفاعی شعبے بلکہ عسکری صنعت، سائبر سیکیورٹی، بحری تعاون، اور انسدادِ دہشت گردی جیسے نئے میدانوں میں بھی وسعت اختیار کر سکتی ہے۔جنرل ساحر شمشاد مرزا کا بنگلہ دیش کا یہ دورہ محض ایک عسکری رابطہ نہیں بلکہ سفارتی مفاہمت کی علامت بھی ہے۔ ان کا ڈھاکہ میں ’’شکھا انیربان‘‘ (ابدی شعلہ) یادگار پر پھول چڑھانا باہمی احترام، یادداشت اور ایک نئے باب کا استعارہ ہے ایک ایسا باب جو ماضی کی تلخیوں سے نکل کر تعاون اور دوستی کے نئے سفر کی علامت بن سکتا ہے۔
پاکستان کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کا اعتراف صرف دوست ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ غیر جانب دار عالمی میڈیا نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا۔کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہ ملک صرف ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست بھی ہے۔ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کیلئے پاکستان کا کردار مزید بڑھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عالمی برادری پاکستان کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی خواہاں ہے۔ کامیاب سفارت کاری اور طاقتور دفاع کا امتزاج ایک ملک کو عالمی برادری میں باوقار بناتا ہے۔ آج پاکستان نئے دور کی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں ملٹری ڈپلومیسی کی کامیابیاں اسے عالمی افق پر مزید نمایاں کریں گی۔
جب دنیا ایک نئے جغرافیائی سیاسی دور میں داخل ہو رہی ہے، تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کے اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر ایک مشترکہ مستقبل کی جانب بڑھیں۔ اگر اس مثبت پیش رفت کا تسلسل برقرار رہا تو دونوں ممالک نہ صرف علاقائی امن کے ضامن بن سکتے ہیں بلکہ مسلم دنیا میں اتحاد، رواداری اور اسٹریٹیجک تعاون کی ایک روشن مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔یہ دورہ دراصل ایک نئے عہد کا آغاز ہے دو برادر ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد، اور مشترکہ ترقی کی سمت میں ایک مضبوط قدم۔