مارک زکربرگ نے حالیہ امریکی اینٹی ٹرسٹ کیس کی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ انہوں نے انسٹاگرام کو اس کی بہتر کیمرہ خصوصیات کی وجہ سے خریدا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فیس بک کی موجودہ کیمرہ ایپ کی ترقی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں، اس لیے انسٹاگرام کی خریداری کو ترجیح دی۔ یہ بیان امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے اس الزام کی تائید کرتا ہے کہ میٹا نے "خرید یا دفن" کی حکمت عملی اپناتے ہوئے حریفوں کو ختم کرنے کے لیے انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسی کمپنیاں خریدیں۔زکربرگ نے مزید کہا کہ نئی ایپس بنانا مشکل ہے اور میٹا نے اپنی تاریخ میں متعدد ایپس بنانے کی کوشش کی، جن میں سے بیشتر ناکام ہوئیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انسٹاگرام کی خریداری کا مقصد فیس بک کے لیے ایک ممکنہ حریف کو ختم کرنا تھا۔ یہ کیس میٹا کے لیے ایک اہم قانونی چیلنج ہے، جس میں FTC انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی خریداریوں کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔