کینال کھولنا بہت بڑی زیادتی ، ارسا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ متنازع لنک کینال کو فی الفور بند کیا جائے،وزیر آبپاشی
کراچی(آئی این پی)دریائے سندھ میں پانی کی 50فیصد قلت کے باوجود متنازع تونسہ پنجند لنک کینال کھول دی گئی ہے جس پر سندھ حکومت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ٹی پی لنک کینال فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے ارسا کو خط لکھ کر متنازع تونسہ پنجند لنک کینال کھولنے پرشدید احتجاج کیا ہے، سندھ حکومت نے ارسا سے ٹی پی لنک کینال فوری بندکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے کہا کہ ارسا نے قرار دیا ہے کہ سندھ کو پانی کی 62فیصد،پنجاب کو 54فیصد کمی کا سامنا ہے جبکہ 1991کا معاہدہ کہتا ہے کہ صوبوں کو برابری کی بنیاد پر پانی کی قلت برداشت کرنا ہوگی۔ سندھ کا مطالبہ ہے کہ یہاں پانی کی 62 فیصد قلت نہیں ہونی چاہیے، صوبوں کو برابری کی بنیاد پر قلت کا سامنا کرنا چاہیے۔جام خان شورو نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب سندھ کو پانی کی 62 فیصد کمی کا سامنا ہے اور ہم صرف پینے کا پانی چھوڑ رہے ہیں، یہ کینال کھولنا بہت بڑی زیادتی ہے، ہمارے لیے کراچی سمیت دیگر شہروں میں پینے اور میونسپل سروسز کے لیے پانی کی فراہمی مشکل ہورہی ہے۔جام خان شورو نے مزید کہا کہ ہم نے ارسا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ متنازع لنک کینال کو فی الفور بند کیا جائے، اس سے سندھ براہ راست متاثر ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ متنازع ٹی پی لنک کینال ایسے وقت میں کھولی گئی ہے جب پنجاب میں گندم کی کٹائی جاری ہے اور کوئی فصل نہیں لگائی جارہی، سندھ نے تو پانی کا انتظام ہونے تک فصلوں کی بوائی پابندی لگائی ہوئی ہے اور صرف پینے کا پانی فراہم کررہے ہیں۔