حکومت ، پیپلز پارٹی پھر آمنے سامنے
وفاق کی جو بھی مجبوریاں ہیں سندھ سے ڈسکس کرے، ایک صوبہ چیخ رہا ہے ، کوئی شنوائی نہیں ہورہی:سینیٹر شیری رحمن ،پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو کوئی اعتراض نہیں بنتا۔ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں کہ فیڈریشن ٹوٹ جائے:عرفان صدیقی
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پانی کی تقسیم کے معاملے پر حکومت اور اتحادی پیپلزپارٹی آمنے سامنے ، سینیٹر شیری رحمن نیحکومت پر دریائے سندھ پر کینال بناکر سندھ کے پانی کی کٹوتی کا الزام عائدکرتے ہوئے کہا کہ سندھ بنجر بن چکا ہے، وفاق کی جو بھی مجبوریاں ہیں سندھ سے ڈسکس کرے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیاکہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو کوئی اعتراض نہیں بنتا۔ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں کہ فیڈریشن ٹوٹ جائے۔ سینیٹ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے دریائے سندھ پرکمرشل کموڈٹی فارمنگ کے لیے بیراج ڈیمز کنال کی تعمیر سے متعلق تحریک التوا پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ کے تمام علاقوں میں شدید احتجاج ہوا، حکومتی فیصلے پر سندھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں وزیراعلٰی سندھ نے واضح اعتراض کیا، چولستان کے ریگستان میں ہریالی کے لیے پانی تبدیل کیا جارہا ہے۔سینیٹر شیری رحمن نے سوال اٹھایا کہ 7 ملین ایکڑ اراضی کس طرح زرخیز بنائیں گے جبکہ پانی نہیں ہے، کوٹری اور گڈو سے پیچھے دریائے سندھ ٹھاٹے مارا کرتا تھا،اب وہ صورتحال کہاں ہے سب کو پتہ ہے پانی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے مگر وہاں کے شہری بوند بوند پانی کو ترستے ہیں، کراچی میں لوگوں کے پاس وسائل ہیں پھر بھی پانی کی یہ صورتحال ہے، ایک صوبہ چیخ رہا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ جو ڈیٹا یہاں بتایا گیا حقیقت اس کے الٹ ہے، ارسا خود 25 سال سے پانی کی کمی کی بات کررہا ہے، ارسا نے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے پانی کی 13 فیصد کمی رہی ہے، یہ مسئلہ کوئی 40 سال سے رہا ہے، اس معاملے پر سندھ ،بلوچستان کو سنا جائے، کمیٹی بناکر معاملہ اٹھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم تقسیم کی سیاست نہیں چاہتے، پانی کی تقسیم مبہم اور متنازع ایشو رہا ہے، تکنیکی باتوں سے معاملہ کو مت الجھائیں زمین پر خشک سالی ہے، پنجاب اکیلا پانی پر معاہدہ نہیں کرسکتا،سندھ بنجر بن چکا ہے، وفاق کی جو بھی مجبوریاں ہیں سندھ سے ڈسکس کرے۔پیپلزپارٹی کے الزام پر مسلم لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیاکہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو کوئی اعتراض نہیں بنتا، ایسا فیصلہ سامنے لائیں جس سے دوسرے صوبہ کا حق مارا گیا ہو۔ معاہدے کے تحت اگر پنجاب نہریں بنا رہا ہے تو بحث نہیں بنتی، ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں کہ فیڈریشن ٹوٹ جائے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے رواں سال کراچی تا سکھر گرین فیلڈ موٹر وے ایم 6 کی تعمیر شروع کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت برسر اقتدار رہی وہ ایم سکس نہ بنانے کی ذمے دار ہے، پیپلز پارٹی اراکین سینیٹ کے احتجاج پر عبدالعلیم خان نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو یہ موٹروے ضرور بنانی چاہیے تھی۔ موٹر وے ایم 6 کا تفصیلی ڈیزائن اور لاگت کا تخمینہ مکمل ہو چکا ہے، یہ موٹر وے صرف حیدرآباد تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اسے کراچی تک توسیع دی جائے گی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت کسی ادارے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی، عدلیہ بھی ایگزیکٹو کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کرے ، ڈیپوٹیشن پالیسی کی گنجائش سروس رولز میں موجود ہے، پہلے تین سال کے لئے ڈیپوٹیشن ہوتی ہے، پھر دو سال تجدید ہوتی ہے، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلوں میں کہا کہ ڈیپوٹیشن کو معمول نہ بنایا جائے، پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ ہوگا۔بعدا زاں سینیٹ کااجلاس24 جنوری تک ملتوی کردیا گیا۔