9 مئی واقعات کے ملزموں پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوئے، فوج نے براہ راست کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی:جسٹس محمد علی مظہر
کیا سپر ٹیکس کا پیسہ صوبوں میں وفاقی حکومت تقسیم کرتی ہے؟ ، رقم 8 روپے ہو یا 8 کھرب روپے، کیا اس طرح تقسیم کی جا سکتی ہے؟جسٹس جمال مندو خیل کا استفسار
اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایف آئی آر کے بغیر نہ گرفتاری ہو سکتی ہے نہ ہی مجسٹریٹ کے آرڈر کے بغیر کسی کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کیا پولیس میں آئی جی اپیل سنتا ہے یا ایس پی کیس چلاتا ہے؟ بھارت میں بھی آزادانہ فورم دستیاب ہے، ایف آئی آر کے بغیر نہ گرفتاری ہو سکتی ہے نہ ہی مجسٹریٹ کے آرڈر کے بغیر کسی کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوئے، فوج نے براہ راست کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی، انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ذریعے سویلینز کی حوالگی فوج کو دی گئی، حراست میں دینا درست تھا یا نہیں یہ الگ بحث ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس کیس کے مستقبل کیلئے بہت گہرے اثرات ہوں گے، ایف بی علی کیس پر آج بھی اتنی دہائیوں بعد بحث ہو رہی ہے۔بعدازاں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت آج تک ملتوی کردی‘سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو دوران سماعت سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل نہ ہوسکے۔جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا سپر ٹیکس کا پیسہ صوبوں میں وفاقی حکومت تقسیم کرتی ہے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیر خزانہ کی تقریر کے مطابق سپر ٹیکس کا پیسہ بیگھر افراد کی بحالی کے لیے استعمال ہونا تھا، 2016 میں سپر ٹیکس شروع کیا گیا، 2017 میں ایک سال کے لیے توسیع کی گئی، 2019 میں توسیع کے لفظ کو آن ورڈز کر دیا گیا، 2016 میں جس مقصد کے لیے ٹیکس اکھٹا کیا گیا تھا، اس میں صوبوں میں تقسیم نہیں ہونا تھا