39 امیدواروں کی حد تک وہ اور قاضی فائز آٹھ ججز سے متفق تھے:جسٹس جمال ‘اقلیتی ججز نے بھی انہی گرائونڈز پر پی ٹی آئی کو مانا جن پر اکثریتی ججز نے مانا تھا:جسٹس محمد علی مظہر
صاحبزادہ حامد رضا کی 2013 سے سیاسی جماعت موجود ہے، جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پارلیمانی جماعت کیوں بنائی:جسٹس مسرت ہلالی
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواستوں کی سماعت 16جون تک ملتوی کردی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے 39 امیدواروں کی حد تک وہ اور قاضی فائز عیسیٰ بھی آٹھ ججز سے متفق تھے، اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا۔ جمہوریت کی بات کی گئی ہے، تو کیا امیدواروں کا اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا جمہوریت نہیں؟ کسی کو زبردستی دوسری جماعت میں شمولیت پر مجبور تو نہیں کیا جا سکتا۔ جو آزاد امیدوار کسی اور پارلیمانی جماعت میں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف انٹرا پارٹی کیس کے فیصلے کے بعد بھی ایک جماعت تھی، اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کو کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ اگر غلط فہمی ہوتی تو وہ پارٹی سرٹیفکیٹ جاری نہ کرتے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اقلیتی ججز نے بھی انہی گراونڈز پر پی ٹی آئی کو مانا جن پر اکثریتی ججز نے مانا تھا۔ کیا جج آئینی اسکوپ سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں؟ جمہوریت کیلئے ہی سہی، مگر کیا جج آئین ری رائٹ کرسکتے ہیں؟۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہیں سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ صاحبزادہ حامد رضا کی 2013 سے سیاسی جماعت موجود ہے، اور جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے، تو پھر وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے تو پارلیمانی جماعت کیوں بنائی؟ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ بنیادی حق ہے، جبکہ ووٹ بنیادی حق نہیں ہے۔ فیصلے میں تین دن کی مدت کو بڑھا کر 15 دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیسا تھا۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ نظرثانی لانے والوں نے تو جس فیصلے کو چیلنج کیا، اسے ہمارے سامنے پڑھا ہی نہیں۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔