ملٹری ٹرائل کیس ادارہ خود شکایت کنندہ ہے تو کیس کیسے سن سکتا ہے جسٹس جمال خان مندوخیل

، ملٹری کورٹس کے ٹرائل کا ریکارڈ تو ہم بھی نہیں دیکھ سکتے،  کیا تمام اداروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟ اگر عدالتیں ہی ختم ہوگئیں تو پھر کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل سے مکالمہ
 کوئی جج چھٹی پر چلا جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے  ٹرائل لیٹ ہو رہا ہے لیکن فوجی عدالتوں میں کلاشنکوف رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، اُن کو کوئی کچھ کہہ سکتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی

 اسلا م آباد(آئی این پی‘یو این پی ) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے    ادارہ خود شکایت کنندہ ہے وہ کیسے کیس سن سکتا ہے، کیا وفاق اور صوبوں کو اپنے ادارے پر اعتماد نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’ملٹری کورٹس کے ٹرائل کا ریکارڈ تو ہم بھی نہیں دیکھ سکتے، یہ بتائیں حکومت اپیل کا حق دے رہی یا نہیں؟ شکایت کنندہ خود کیسے ٹرائل کر سکتا ہے؟ کیا تمام اداروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟ ہم پر تو لوگ فیصلوں کی وجہ سے صرف 50 فیصد اعتماد کرتے ہیں اگر عدالتیں ہی ختم ہوگئیں تو پھر کیا ہوگا؟جسٹس جمال خان مندوخیل  نے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق دستیاب ہیں، ہمارے سامنے اس وقت وہ مسئلہ ہے، اٹارنی جنرل  نے کہا کہ جب فل کورٹ میں یہ معاملہ آیا تھا تو وہ بھی 18ویں ترمیم کے بعد آیا تھا، جب فل کورٹ میں یہ معاملہ تھا تو عدالت نے ہی تین آپشنز دئیے تھے۔۔اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا اگر کوئی جج چھٹی پر چلا جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے کہ ٹرائل لیٹ ہو رہا ہے لیکن فوجی عدالتوں میں کلاشنکوف رکھ کر تو فیصلہ کیا جاتا ہے، اُن کو کوئی کچھ کہہ سکتا ہے؟ آپ کیسے انصاف اور شفاف ٹرائل کی بات کر رہے ہیں؟ حکومت سویلینز کو اپیل کا حق دے گی تو کون سا مسئلہ ہوگا؟‘۔