ریکوری سے متعلق ہم نہیں کہہ رہے بلکہ آڈیٹر جنرل پاکستان کے اعدادوشمار ہیں:چیئرمین پی اے سی
پانی کے 7 بڑے منصوبوں میں سے صرف ایک پر 50 فیصد تک کام مکمل ہو سکا:وزارت آبی وسائل
اسلام آباد(آئی این پی)پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی)کی جانب سے دو ماہ میں اربوں روپے کی ریکور کرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔چیئرمین پی اے سی جنید اکبر خان نے کہا کہ دو ماہ میں 118 ارب 53 کروڑ کی ریکوری ہو چکی ہے اور یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اعداد و شمار ہیں۔اجلاس میں وزارت آبی وسائل اور واپڈا میں 58 گاڑیوں کے غلط استعمال کا آڈٹ اعتراض پر بحث ہوئی۔آڈیٹر جنرل حکام نے بتایا کہ وزارت اور واپڈا میں 58 گاڑیاں غیر مجاز افسران کو الاٹ کی گئیں، 2021 سے 2023 کے درمیان مختلف ماڈلز کی گاڑیاں خریدی گئیں۔آڈٹ بریف میں بتایا گیا کہ گاڑیاں منصوبوں کے لیے خریدی گئیں اور اسی مقصد کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھیں، یہ گاڑیاں منصوبوں کے لیے افسران کو الاٹ کی گئی تھیں لیکن اس سے قومی خزانے کو 15 کروڑ 32 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔سیکریٹری آبی وسائل نے کہا کہ ڈی اے سی نے فیصلہ کیا کہ اس میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، ہم 60 دنوں میں انکوائری کرکے ذمہ داروں کا تعین کریں گے۔چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے لپا لپ یہ آسان معاملہ ہے ایک ماہ میں انکوائری مکمل کریں۔ دریں اثناء پبلک اکائونٹس کمیٹی(پی اے سی) میں وزارت آبی وسائل کی رپورٹ میں ملک میں پانی کے تمام بڑے منصوبے تاخیر کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق پانی سے متعلق 7 بڑے منصوبوں میں سے صرف ایک پر 50 فیصد تک کام مکمل ہو سکا۔ پاکستان پانی کے کم ترین ذخیرے والے ممالک میں شامل ہے۔دیامر بھاشا ڈیم پر 15 فیصد کام مکمل ہو سکا جبکہ داسو ڈیم کی تعمیر کا کام 21 فیصد تک مکمل ہو سکا۔ مہمند ڈیم پر کام 33 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔