راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے اس وقت ماحول کچھ ٹھنڈا ہے، تاہم بات چیت ہونی چاہیے اور معاملات کو بہتر سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، تاہم لاہور میں انہیں سکیورٹی فراہم نہ کرنا افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی کو پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر ایک چوک پر چھوڑ دیا گیا، جو ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے ساتھ مناسب رویہ نہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں سکیورٹی فراہم کرنا متعلقہ صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور پنجاب پولیس کو گزشتہ رات لاہور میں پیش آنے والے واقعے پر معذرت کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے اقدامات سے صوبوں کے درمیان نفرتیں بڑھ سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بارہا واضح کرچکی ہے کہ وہ پرامن جماعت ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو پولیس کی گاڑی میں ایک قدم بھی لے جانا تضحیک کے مترادف ہے۔بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جانا تھا، تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی نے اس معاملے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر کردی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے مسئلے کو آئینی بحران نہ بنایا جائے اور کیس کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں فٹ بال کی طرح نہیں پھینکنا چاہیے۔ ان کے مطابق آئینی عدالت کی جانب سے کیس اپنے پاس منگوانے کے فیصلے سے پی ٹی آئی کو اختلاف ہے۔بیرسٹر گوہر نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تناؤ کم کرنے کے لیے مثبت اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور بات چیت کا ماحول ٹھنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت برقرار ہے اور 27 ستمبر کو بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے۔ بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ سے متعلق عدالتی معاملے کو سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طے کرنا سیاسی معاملہ ہے کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کون ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہ بانی پی ٹی آئی ہیں اور انہی نے علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی 2025 کے بعد ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام بھی آنا چاہیے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں پر بیرسٹر گوہر نے الزام عائد کیا کہ کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، بعض گھروں کو سیل جبکہ بجلی بھی منقطع کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی ماحول مزید خراب ہوگا۔جماعت اسلامی کے مہنگائی کے خلاف احتجاج اور مارچ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے مارچ الگ الگ ہوں گے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے مارچ میں شریک نہیں ہوگی، تاہم اے پی سی میں شرکت کرے گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ہائی لیول شخصیت کی ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی یا راستے بند نہیں کرے گی بلکہ پرامن انداز میں آئے گی اور لوگوں کے لیے راستے کھلے رکھے جائیں گے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدالتوں کے ذریعے سیاسی معاملات کو مزید پیچیدہ نہ بنایا جائے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نہ صوبائی مشینری استعمال کرے گی اور نہ امن و امان میں خلل ڈالے گی، بلکہ اس مرتبہ بھی سرکاری مشینری کے بغیر احتجاج کرے گی۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ کرے ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو اور تمام صوبے محفوظ ہوں۔