سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش ختم کی جائے، بیرسٹر گوہر

سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش ختم کی جائے، بیرسٹر گوہر

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں، کیونکہ سیاسی معاملات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے کا راستہ بات چیت ہی سے نکل سکتا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ سیاسی مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں بہتری کے لیے مذاکرات ضروری ہیں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

ایمرجنسی اور گورنر راج پر پارلیمانی اجلاس میں بات ہوگی
بیرسٹر گوہر نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی آڑ میں سیاسی مخالفین ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام تفصیلات پارلیمانی اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ان کے مطابق اجلاس میں سینیٹرز اور ارکانِ پارلیمنٹ شرکت کریں گے، جہاں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق معاملات پر بات کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے اس گفتگو کے دوران ان مبینہ فوائد یا اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں جن کا ذکر وہ سیاسی مخالفین کے حوالے سے کر رہے تھے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش ختم کرنے کا مطالبہ
چیئرمین پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان ملاقاتوں کی بندش ختم ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بندش کو 375 دن ہو چکے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے اس صورتِ حال کو غیر انسانی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا اور اہلِ خانہ سے ملاقات نہ کروانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتی رہتیں تو حالات میں بہتری آ سکتی تھی۔

ملاقاتوں کی بندش سے سیاسی پیچیدگیاں بڑھیں، بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ملاقاتوں کی بندش کے باعث سیاسی معاملات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ ان کے بقول ملک میں سیاسی کشیدگی اور سیاسی انتقام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مسائل کے حل کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور اپوزیشن کو سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بامقصد بات چیت کے ذریعے نہ صرف سیاسی مسائل کے حل کی کوشش کی جا سکتی ہے بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی پیش رفت ممکن ہے۔