لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور آمد کے موقع پر احتجاج، ریلی، نعرے بازی اور سڑکیں بلاک کرنے کے الزام میں پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران پی ٹی آئی کے 14 کارکنوں کو گرفتار کرلیا، جبکہ مختلف تھانوں میں 3 مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار کارکنوں کا تعلق راولپنڈی، لورالائی، کالا شاہ کاکو سمیت مختلف شہروں سے ہے۔ کارکنوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سڑک بلاک کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کی اور نعرے بازی کی، جس پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔اکبری گیٹ پولیس نے احتجاج کے دوران 9 افراد کو گرفتار کیا، جن کے خلاف ریاست مخالف اقدام کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔دوسری جانب قلعہ گجر سنگھ پولیس نے 10 سے 15 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے 5 افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں کارِ سرکار میں مداخلت سمیت 5 دفعات شامل کی گئی ہیں۔ گرفتاری کے دوران مزاحمت کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک کانسٹیبل کی وردی بھی پھاڑی گئی۔پولیس نے گرفتار کارکنوں کے قبضے سے سیاسی جماعت کے جھنڈے اور پوسٹرز بھی برآمد کرکے قبضے میں لے لیے ہیں، جبکہ مقدمات میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دورہ لاہور کے دوران شاہ جمال میں پی ٹی آئی لاہور کے صدر میاں اکرم عثمان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میاں اکرم عثمان کو گزشتہ رات ریگل چوک سے پولیس نے حراست میں لیا تھا، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔پولیس نے شاہ جمال اور اچھرہ روڈ کو بھی جزوی طور پر بند کر رکھا ہے، جبکہ میاں اکرم عثمان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے سلسلے میں شاد باغ پولیس نے بھی دو کارکنوں حنظلہ اور طاہر فہیم کے خلاف سڑک بلاک کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ اس معاملے میں تیسرا مقدمہ ہے، اس سے قبل قلعہ گجر سنگھ اور اکبری گیٹ پولیس بھی مقدمات درج کرچکی ہے۔