لاہور میں 5 اگست کو غیر قانونی احتجاج کے خلاف 10 مقدمات درج، گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

لاہور میں 5 اگست کو غیر قانونی احتجاج کے خلاف 10 مقدمات درج، گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

لاہور میں 5 اگست کو بلا اجازت احتجاج پر 10 مقدمات درج، گرفتاریوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی

لاہور میں 5 اگست کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس کے خلاف بد امنی پھیلانے اور سرکاری ملازمین میں مداخلت کے الزام میں 10 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں بغاوت، کار سرکار میں مداخلت اور چوری کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمات مختلف تھانوں میں ماڈل ٹاؤن، لیاقت آباد، کوٹ لکھپت، چوہنگ، نواب ٹاؤن اور ملت پارک میں درج کیے گئے ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، وردیاں پھاڑیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ پولیس کے مطابق، تین دن کے دوران تحریک انصاف کے 900 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 200 سے زائد کو مختلف علاقوں میں حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پرتشدد احتجاج اور سڑک بلاک کرنے پر 129 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 92 افراد دیگر شہروں سے لاہور آنے والے تھے۔ علاوہ ازیں، 3 اور 4 اگست کو حراست میں لیے گئے متعدد کارکنان کو بعد میں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ صورتحال احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی اور گرفتاریوں کی تفصیلات کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔