شام کے وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے اعلان کیا ہے کہ دمشق نے 73 ٹن قدرتی یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی انتظامات کے تحت دے دیا ہے۔
اس اقدام کو شام کی جوہری فائل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے مطابق 2011 سے زیرِ التوا جوہری عدم تعمیل کے معاملے کو ختم کرکے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کا نیا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس سے ویڈیو خطاب میں اسد الشیبانی نے بتایا کہ بورڈ آف گورنرز نے 9 ستمبر کو متفقہ طور پر شام کی جوہری فائل بند کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ دمشق نے 17 جولائی کو آئی اے ای اے کو ایک سرکاری خط بھیجا، جس میں ایک غیر اعلانیہ مقام پر موجود جوہری مواد کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں 29 جولائی کو تعاون کے لیے روڈ میپ پر دستخط کیے گئے۔
شامی وزیر خارجہ کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے 16 اگست کو متعلقہ تنصیب کا دورہ کیا، جبکہ شامی اور آئی اے ای اے کے ماہرین نے مقام پر مضبوط کنکریٹ کے نیچے موجود ری ایکٹر کی باقیات ہٹانے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔اسد الشیبانی نے بتایا کہ دمشق نے 2011 سے آئی اے ای اے بورڈ کی جانب سے طلب کی جانے والی ڈیزائن معلومات اور انوینٹری رپورٹس بھی فراہم کردی ہیں، جبکہ اٹامک انرجی کمیشن نے محدود وسائل کے باوجود چند ہفتوں میں ان معاملات کو حل کیا۔