واشنگٹن (آئی این پی )مریکی خبر رساں ادارے اے پی کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب رواں ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے قطر میں حماس کے رہنماں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا تو انہوں نے گروپ کو کچلنے کی مہم کے دوران ایک بہت بڑا جوا کھیلا۔ مشن کے ناکام ہونے کے بڑھتے اشاروں کے بعد ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ جوا بیک فائر کر گیا ہے۔نیتن یاہو کو امید تھی وہ اس حملے میں حماس کے دوسرے ملک میں موجود رہنمائوں کو نشانہ بنا کر گروپ کے خلاف اس لڑائی میں مکمل فتح کے قریب پہنچ جائیں گے، جس کا آغاز سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے جواب میں ہوا تھا۔تقریبا دو سال سے جاری اس جنگ میں اسرائیل کی جانب سے پہلے بھی عسکریت پسند گروپ پر ہتھیار ڈالنے کے لئے دبائو ڈالا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب حملے کے بعد حماس نے یہ دعوی بھی کیا کہ اس کے رہنما زندہ ہیں، جس کے بعد نیتن یاہو کی پوزیشن کو ایک اور دھچکا لگا ہے جو پہلے ہی غزہ میں تباہی اور انسانی بحرانوں کی وجہ سے نقصان اٹھا چکی ہے۔