پشاور میں اسکول کی عمارت کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔
سانحے نے متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ والدین نے متعلقہ حکام پر غفلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ خاندانوں کے مطابق حادثہ صبح 7 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں شروع کردیں۔
مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں
والدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے چند ہی منٹوں میں علاقے کے شہری موقع پر پہنچ گئے اور ملبے سے متاثرہ افراد کو نکالنے میں مدد فراہم کی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں کیں، جبکہ سرکاری امدادی ٹیمیں بعد میں جائے حادثہ پر پہنچیں۔متاثرہ خاندانوں نے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ امدادی ٹیموں کی آمد اور کارروائیوں میں کیا صورت حال رہی۔
پرانی عمارت اور حفاظتی اقدامات پر سوالات
متاثرہ بچوں کے والدین کے مطابق اسکول کی عمارت کئی دہائیوں پرانی تھی اور اس کی تعمیر نو یا مناسب دیکھ بھال پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ عمارت کی حالت کا بروقت جائزہ لیا جاتا اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو ممکنہ طور پر اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔والدین نے مطالبہ کیا کہ اسکول کی عمارت کی تعمیر، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ عمارت کی حالت کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ
متاثرہ خاندانوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔والدین نے یہ بھی زور دیا کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا حفاظتی جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق عمارتوں کی مضبوطی، مرمت اور بچوں کی حفاظت سے متعلق انتظامات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
شہر میں سوگ کی فضا
اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد پشاور میں سوگ اور افسوس کی فضا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کے حوالے سے شدید کرب میں مبتلا ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے بھی سانحے پر دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں اور تحقیقات سے متعلق مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے مؤثر اقدامات بھی درکار ہیں جن سے مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔