پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی نااہلیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید بڑھاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 2018 کے انتخابات میں 180 سیٹیں جیتی تھیں، لیکن اب اسمبلی میں ان کی تعداد گھٹ کر 77 رہ گئی ہے، جو نااہلیوں کا نتیجہ ہے۔
نااہلیوں پر تنقید اور امتیازی سلوک کی شکایت
بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ نااہلیوں کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور ان کی پارٹی کو غیر منصفانہ طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے اندر پارٹی الیکشن بھی کرائے لیکن الیکشن کمیشن نے ان کے الیکشن کو تسلیم نہیں کیا جبکہ دوسری پارٹیوں کے انتخابات کو تسلیم کر لیا گیا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کی ٹیم میں کوئی کمزوری نہیں ہے اور پارٹی کے خلاف زیادتیاں ہو رہی ہیں۔
پارٹی کی مقبولیت اور سیاسی سرگرمیاں
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ انتخابات میں تین کروڑ ووٹ حاصل کیے ہیں اور عمر ایوب ان کی پارٹی کے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو جشن آزادی منایا جائے گا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بھی آواز اٹھائی جائے گی۔
امن اور دہشت گردی کے خلاف موقف
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث قبائلی علاقوں کے لوگ سخت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی اور بدامنی کو روکنا ان کا فرض ہے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔
ڈائیلاگ کی ضرورت
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی معاملات پر ڈائیلاگ ہونا چاہیے اور انہوں نے خود اس حوالے سے متعدد کوششیں کی ہیں، تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔