مطالبات تسلیم ہونے تک امریکا کے خلاف جنگ جاری رہے گی:ایران کا دوٹوک اعلان

مطالبات تسلیم ہونے تک امریکا کے خلاف جنگ جاری رہے گی:ایران کا دوٹوک اعلان

ایران نے امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات پورے ہوئے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 تاہم ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نہ غیرمعینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مقصد ایسا پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے میں مدد دے سکے۔ ان کے مطابق تہران مذاکرات کے ذریعے یہ ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر لڑائی ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق قالیباف نے امریکی دباؤ اور مقررہ ڈیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلتیں گزر چکی ہیں۔ ان کے بقول ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے باوجود ایرانی نظام کام کر رہا ہے۔

قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی معاشی پیش گوئیوں پر طنز کرتے ہوئے انہیں فزکس کا نوبیل انعام دینے کا مطالبہ کیا۔ ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکی معاشی پالیسیوں اور دباؤ کے نتائج سے متعلق پیش گوئیوں نے وقت کے تصور کو ہی بے معنی بنا دیا ہے۔ایرانی قیادت کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے پائیدار دفاعی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی دباؤ کے سامنے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

موجودہ صورتحال میں جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کے مؤقف، مطالبات اور ممکنہ سمجھوتے پر ہوگا۔ تاہم فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کی صورت میں سفارتی پیش رفت ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔