جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہوگئیں، والدین کا ذکر کرتے آواز بھر آئی

 جسٹس مسرت ہلالی کو ایک مسکراتی ہوئی دلیر جج کے طور پر یاد رکھا جائے گا:چیف جسٹس یحیی آفریدی 
 سپریم کورٹ بار نئے صوبوں کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے: صدر بار ایسوسی ایشن  ہارون الرشید 
اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو گئیں، جسٹس مسرت ہلالی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کاانعقاد کیا گیا۔سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ پر فل کورٹ ریفرنس میں 9 ججز شریک ہوئے اور سات ججز بذریعہ ویڈیولنک ریفرنس میں شریک ہوئے۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ  جسٹس مسرت ہلالی ایک سال سوات بنچ میں بھی رہیں، جسٹس مسرت ہلالی سوات بنچ میں ایک عام سی گاڑی میں سفر کرتی رہیں، جسٹس مسرت ہلالی کو ایک مسکراتی ہوئی دلیر جج کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔جسٹس مسرت ہلالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن انصاف ہمیشہ رہنا چاہیے، آج ریٹائر ہوتے ہوئے مطمئن ہوں کہ جو کیا وہ میرے والدین کی دعا اور ساتھی ججز کی سپورٹ تھی۔انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی چیف جسٹس اور کے پی سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنی،خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھی جس نے بار کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئی۔جسٹس مسرت ہلالی کی مرحوم والدین کا ذکر کرتے ہوئے آواز بھر آئی، انہوں نے کہا کہ  اپنے مرحوم والدین کی مشکور ہوں جن کی وجہ سے آج یہاں تک پہنچی،۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  ہارون الرشید نے فل کورٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاسیاسی جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں، سپریم کورٹ بار نئے صوبوں کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی کو بہترین جوڈیشل کیرئیر پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں