وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئین کے تحت قائم ہونے والی آئینی عدالت کے قیام سے عدالتوں میں جوڈیشل مداخلت کا دروازہ بند ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ اب اپنے اصل کام پر توجہ مرکوز کرسکے گی۔
انہوں نے نارووال میں جدید پتھالوجی یونٹ کے افتتاح کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں کہی۔احسن اقبال نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم، میثاقِ جمہوریت کی شق پر عملدرآمد ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کیے تھے، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی عدالت کا قیام عدلیہ پر حملہ نہیں بلکہ عدلیہ کو مضبوط بنانے کا عمل ہے، کیونکہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کے قیام کی شق واضح طور پر شامل تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے عدالتوں میں جاری کئی مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی، اور اس سے سپریم کورٹ میں برسوں سے زیر التوا کیسز کو جلد از جلد ڈسپوزل ممکن ہو سکے گا۔ احسن اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اقدام سے عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور ملک میں قانون و انصاف کے نظام کو مضبوطی ملے گی۔