پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جو حکومت جادو ٹونے سے چلتی ہے، اس کا اندازہ لگا لیں، اس نے ملک کے ساتھ اور کیا کیا کیا ہوگا۔
انہوں نے برطانوی جریدے ’دی اکنامسٹ‘ کی سابقہ خاتونِ اول، بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی اہلیہ سیاسی بھی تھیں اور ان کے کنٹرول میں بھی تھیں۔طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بزدار کی تقرری اور دیگر اہم فیصلوں میں جادو ٹونے کا عمل دخل رہا، اور گوگی، پنکی والا گٹھ جوڑ تھا، جس کے ذریعے فائدہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بشریٰ بی بی ہیرے کی انگوٹھی، پلاٹ اور 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن میں ملوث رہی ہیں، اور انہوں نے بنی گالا کو منی گالا بنا دیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو اہم معلومات کے استعمال کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا، اور حساس ادارہ اپنی معلومات بشریٰ بی بی کے پیر تک پہنچاتا تھا، جو عمران خان کے سامنے روحانی بصیرت کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ جب یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتیں، تو عمران خان کا ان پر یقین مزید بڑھ جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، بشریٰ بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں میں محدود نہیں تھا، بلکہ فوجی قیادت کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ بعض سینئر اہلکاروں کا الزام تھا کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ سنتے تھے، اور 2019 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل عاصم منیر کی برطرفی کو بھی بشریٰ بی بی سے جوڑا جاتا ہے۔