پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے بشریٰ بی بی سے متعلق برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کو من گھڑت اور بےبنیاد قرار دیا ہے۔
پشاور سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اور ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی جیل میں رہ کر بھی اپنی ہمت اور حوصلہ بلند رکھے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹے الزامات کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔سیف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی جیل میں غیر قانونی قید کے باوجود ثابت قدم ہیں۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید نے بشریٰ بی بی کو حساس معلومات کے لیے استعمال کیا، اور یہ اطلاعات عمران خان تک پہنچائی گئیں، جنہیں وہ اپنی روحانی بصیرت سے حاصل کرتی تھیں۔رپورٹ کے مطابق، بشریٰ بی بی کے کردار پر سیاسی اور فوجی حلقوں میں اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، اور 2019 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل عاصم منیر کی برطرفی کو بھی بشریٰ بی بی سے منسوب کیا گیا ہے۔