وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے ایک اہم پریس کانفرنس میں برطانوی جریدے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی، سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے فیصلے صرف ایکسپرٹ سے نہیں بلکہ بشریٰ بی بی سے پوچھ کر کیے جاتے تھے۔عطا اللّٰہ تارڑ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ دنیا کے مختلف جریدے اور رپورٹس یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے تمام اہم فیصلے ایک خاتون کے ذریعے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے فیصلوں میں روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کا کردار نمایاں تھا اور معاشی، سیاسی اور حکومتی فیصلے بھی بشریٰ بی بی کے کہنے پر کیے جاتے تھے۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں منافقت، جھوٹ اور بہتان بازی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر جھوٹا الزام لگایا اور عدالت میں پیش ہونے کے بعد بھی مختلف فورمز پر شہباز شریف پر الزامات جاری کیے۔ اب برطانوی جریدہ بھی یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں کے پیچھے جھوٹ اور بہتان کا نظام تھا۔
عطا اللّٰہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ 2017ء کے دھرنوں کے دوران پی ٹی آئی نے بھی جھوٹے الزامات لگائے اور ان کا الزام تراشی کے سوا کوئی خاص کردار نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن قائم ہوگا، کیونکہ مسلح افواج اور دیگر فورسز کا کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے وانا کیڈٹ کالج کے سانحہ کو اے پی ایس سے بڑا قرار دیا اور بتایا کہ اسلام آباد کچہری دھماکے کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انشاءاللّٰہ ملک میں امن ضرور قائم ہوگا۔