امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔
یہ معاہدہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان امن اور سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ باتیں ایئر فورس وَن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہیں۔اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آئندہ ہفتے سعودی ولی عہد سے آپ ملاقات کریں گے اور اس ملاقات کے مقاصد کیا ہوں گے؟ اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ ملاقات ‘صرف ملاقات’ سے زیادہ ہے، یعنی اس کا مقصد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کرنا ہوگا۔جب صحافی نے سوال کیا کہ کیا ابراہیمی معاہدہ اس بات چیت کا حصہ ہوگا، تو ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، ابراہیمی معاہدہ بھی اس ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔
ایک اور سوال میں پوچھا گیا کہ کیا امریکہ سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ سعودی عرب بہت سے لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے اور امریکہ سب سے بہترین تیاریاں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری پروگرام کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور سعودی عرب بھی اس طرح کے جدید ہتھیار خریدنے کا خواہشمند ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ سعودی عرب بہت سارے لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے، اور امریکہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب خطے میں سلامتی، استحکام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم سیاسی مباحث جاری ہیں۔