27ویں ترمیم نامنظور ، حکومت نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا ئو: محمود اچکزئی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 21 نومبر کو ملک بھر میں احتجاج اور یوم سیاہ منانے کی کال دیدی۔اعلامیہ کے مطابق محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس کے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا، آئین کو اصل حالت میں بحال کیا جائے، متنازع آئینی ترامیم سے سپریم کورٹ کا اختیار اور وجود محدود، ترامیم نے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کردیا۔ تحریک تحفظ آئین کا مزید کہنا تھا کہ ججز کے استعفے مزاحمت کے طور پر تعبیر کیے جاتے ہیں، بحالی آئین کے لیے جمہوری طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے پیر (17 نومبر)کو متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک واک کرے گی، ساتھ ہی خیبر پختونخوا اسمبلی میں آئینی ترمیم کے خلاف قرار داد پیش کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ پر حملہ ہیں، عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے اور اس طرح سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کر دئیے گئے ہیں۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے پر خراج تحسین پیش کیا گیا اور آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور عزم ظاہر کیا گیا کہ غیر آئینی ترامیم کے خلاف جمہوری مزاحمت جاری رہے گی۔اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ خیبر پختونخوا امن جرگے کے اعلامیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں 27 ویں ترمیم کے خلاف قرارداد پیش ہوگی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کا اعلان کیا اور کہا کہ لاہور میں وکلا احتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے گی اور اگلے جمعے کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق عمران خان، بشریٰ بی بی، پی ٹی آئی قیادت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر غور، 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن رہنما ئوں نے اہم فیصلوں پر مشاورت کی، ترمیم کے ممکنہ اثرات پر قانونی ماہرین کی آرا پر بحث ہوئی اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بات کی گئی۔