ڈاکٹر جمشید نظر
چالیس سال پہلے جب سائنسدانوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ انسان اپنی ہی زمین کو زہریلے کیمیکلز سے تباہ کر رہا ہے تو دنیا کے اکثر ممالک نے صرف یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ابھی ثبوت مکمل نہیں، تحقیق جاری ہے، وقت آنے پر دیکھا جائے گا لیکن کچھ لوگوں نے وقت سے پہلے جاگنے کا فیصلہ کیا۔1985 میں ویانا کنونشن پر دستخط ہوئے اور یوں ایک عالمی کوشش کا آغاز ہوا جس کا مقصد صرف ایک تھا’’اوزون کی تہہ کو بچانا‘‘ جو ہمیں سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاتی ہے اگر یہ تہہ ختم ہو جائے تو صرف ماحولیاتی تباہی نہیں آئے گی بلکہ انسان خود اپنی جلد، آنکھوں اور سانس کی بیماریوں سے تباہ ہو جائے گا۔
1987 میں مونٹریال پروٹوکول سامنے آیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے یہ تسلیم کیا کہ سائنس صرف لیبارٹریز تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پالیسی سازی کا حصہ بھی بننی چاہیے۔ یہ معاہدہ اس وقت کیا گیا جب سرد جنگ کا دور اپنے عروج پر تھا۔ امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایٹمی جنگ کی بات کرتے تھے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ممالک نے بھی اس معاہدے کی حمایت کی۔آپ اندازہ کریں کہ جس دور میں دنیا ایٹم بم بنانے کے مقابلے میں لگی ہوئی تھی اسی دور میں ایک ایسی سادہ مگر موثر عالمی تحریک کا آغاز ہوا جس نے وقت کے ساتھ ایک بڑی کامیابی کی شکل اختیار کر لی۔
موجودہ سال اقوام متحدہ اس کامیابی کو’’From Science to Global Action‘‘ کے عنوان سے منا رہی ہے لیکن ہمیں اس کامیابی پر جشن منانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے واقعی وہ سب کچھ سیکھ لیا ہے جو سائنس نے ہمیں بتایاتھا؟
مونٹریال پروٹوکول کے تحت’’کلوروفلوروکاربنز (CFCs)‘‘ اور دیگر زہریلے کیمیکلز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں’’کِگالی ترمیم (Kigali Amendment)‘‘ کے ذریعے ’’ہائیڈروفلوروکاربنز (HFCs)‘‘ جیسے گرین ہاؤس گیسز پر بھی توجہ دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ اسپرے، ریفریجریٹر اور فوم بنانے والی ہر چیز’’ CFCs ‘‘سے بھری ہوتی تھی لیکن آج دنیا کی اکثریت ان کا استعمال ترک کر چکی ہے۔
پاکستان نے تمام تر مالی مشکلات کے باوجود اس معاہدے کی نہ صرف پاسداری کی بلکہ کئی حوالوں سے قابلِ تقلید کردار بھی ادا کیا۔ پاکستان نے سن 1992 میں’’ مونٹریال پروٹوکول کی توثیق‘‘ کی اور سن 1996 میں’’نیشنل اوزون یونٹ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحت کام کرتا ہے اس یونٹ کا مقصد اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز کی نشاندہی، نگرانی اور ان کے متبادل کے فروغ کے لیے پالیسی سازی کرناہے۔پاکستان نے فوم، ایئر کنڈیشنر، ریفریجریشن اور ایروسول انڈسٹریز میں ایسے منصوبے شروع کیے جن کے ذریعے ’’CFCs ‘‘کے استعمال کو متبادل ماحول دوست ٹیکنالوجیز سے تبدیل کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام (UNEP) اور دیگر عالمی اداروں کی معاونت سے نہ صرف صنعتوں کو تربیت دی گئی بلکہ مالی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کی گئی۔ان اقدامات کے نتیجہ میںپاکستان’’ اوزون ایکشن ایوارڈ‘‘ سمیت کئی عالمی اعزازات کا مستحق بھی ٹھہرا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت ہو تو ترقی پذیر ممالک بھی عالمی ماحولیاتی معاہدوں میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آج جب ہم 2025 میں کھڑے ہیں دنیا کو ایک نئی انوکھی جنگ کا سامنا ہے ماحولیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، برفانی تودے، خشک سالی اور طوفانی بارشیں یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف اوزون کی تہہ بچانا کافی نہیں بلکہ ہمیں زمین کی ہر سانس کو بچانا ہے۔اوزون کی تہہ محض ہوا کی ایک پرت نہیں یہ قدرت کا وہ خاموش پہرہ دار ہے جو صدیوں سے زمین کو آفتاب کے قہر سے بچاتا آیا ہے لیکن انسان نے ترقی کی دوڑ میں اپنے ہی نگہبان کو زخمی کر دیا ہے اب یہ تہہ چھلنی ہے اور سورج کی شعاعیں ہمارے وجود کو جھلسا رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کب بیدار ہوں گے؟ سوال یہ ہے کہ جب ہم جاگیں گے تو باقی کیا بچا ہو گا؟ درخت کٹے ہوں گے، دریا سوکھے ہوں گے اور آسمان پر وہ نیلا پن شاید ایک خواب بن چکا ہو گا۔ ہم نے اوزون کو بچایا لیکن کیا ہم اپنے دریاؤں، جنگلات اور فضاؤں کو بھی بچا پائیں گے؟ یا پھر اگلی نسل ہمیں صرف ایک سوال دے گی’’جب تم جانتے تھے کہ سب کچھ ختم ہو رہا ہے تو تم نے کچھ کیوں نہیں کیا؟‘‘