صوبوں کو امن یقینی بنانے، اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کیلئے آنے والوں کے بارے میں ہدایات دیدی گئیں
لاہور ( کرائم رپورٹر)حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی 24نومبر کے احتجاج کی کال کو اسلام آباد میں غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال طاری کرنے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے اس سے سختی کیساتھ نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تمام تر اقدامات 9مئی کے واقعات کے تناظر میں ہو رہے ہیں اور طے پایا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ممکنہ انتظامی اقدامات ہوں گے اور قانون پر اثر انداز ہونے والے ہر شخص کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ حکومتی سطح پر صوبوں کو اپنے ہاں امن عامہ یقینی بنانے اور اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کیلئے آنے والوں کے بارے میں ہدایات بھی دی گئی ہیں جبکہ پختونخواکے بارے میں حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔پختونخوا میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو اپنے ہاں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین پر نظر رکھنے ان کی ہر طرح کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو حتمی آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حکومتی ذرائع کے مطابق بعض حکومتی اداروں نے اپنی رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت اسلام آباد میں ہنگامی، غیر معمولی صورتحال طاری کرنے کیلئے اپنے ذمہ داران اور کارکنوں کو ہدایات جاری کرچکی ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ ہر قیمت پر ہر حالت میں اسلام آباد پہنچنا ہے اور جو ہدایات جاری کی گئیں ہیں اس کے مطابق احتجاج کرنا ہے۔ مذکورہ رپورٹس میں کہا گیا کہ تیاریوں کا طریقہ کار اور حکمت عملی وہی ہے جو 9مئی کو ملک بھر میں قومی اور فوجی املاک پر حملوں ، گھیراؤ جلاؤ اور ملک بھر میں غیر معمولی فضا طاری کرنے کے ضمن میں تھا ۔ لہٰذا اس حوالے سے غیر معمولی صورتحال کے سدباب کیلئے غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہیں ،احتجاج کی کال کے تناظر میں دہشت گردی کے خطرات اور خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، اس حوالے سے ضروری اقدامات درکار ہیں۔ وفاقی حکومت کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا آ نے واضح کیا کہ احتجاجی کال کا مقصد ملک میں انارکی طاری کرنا اور غیر مستحکم کرنا ہے، پختونخوا حکومت کے احتجاج پرحتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی جس کا اجلاس جلد ہوگا، گورنر راج بھی آئینی آپشن ہے ، لیکن یہ آپشن حتمی ہوتا ہے۔ اس سے پہلے بھی وفاق کے پاس بہت سے اختیارات ہیں لیکن یہ طے ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی کو امن و امان سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔رانا ثنا آ نے بتایا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ پنجاب سے قافلے روانہ ہوں گے۔ اکا دکا لوگ اپنے طور پر جا سکتے ہیں لیکن سب کو یہ سوچ کر جانا ہوگا کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ اس عمل کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہونا اور ملک کو انارکی سے دوچار کرنا ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کے مطابق حکومت کے اقدامات ہی ہماری احتجاجی کال کی کامیابی کا ثبوت ہے ، جب احتجاج کیلئے ہم نکلیں گے تو یہ انتظامی ہتھکنڈے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے،ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہمارے لئے یہ کال جینے اور مرنے کے حوالہ سے اہم ہے تو یقیناً حکومت کیلئے بھی ہوگی لیکن عوام کا راستہ روکنا اب ان کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔