ان کیمرہ اجلاس کیلئے سپیکر سے اجازت لینا ہوگی‘رولز آف پروسیجر ترامیم 1997 میں ترامیم منظور
وزیر اعلیٰ کے ایڈوائزرز کو پنجاب اسمبلی میں بات کرنے کا اختیار دیدیا گیا ،محکمے جواب دینے کے پابند
لاہور(سپیشل رپورٹر)پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر ترامیم 1997 میں ترامیم منظور کرلی گئیںجس کے تحت پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کے ایڈوائزر زکو ایوان میں بات کرنے کا اختیار دیدیا گیا جبکہ ہر محکمہ پندرہ روز کے اندر اندر جواب دینے کا پابند ہوگا، ترمیم کے تحت تمام قانون سازی لائیو دکھائی جائے گی، کہیں ان کیمرہ اجلاس ضروری ہوتاہے تو اس کی اجازت سپیکر سے لینا ہوگی۔رکن اسمبلی سمیع اللہ خان نے ایوان میں ترامیم پیش کیں ۔اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان کی جانب سے ترمیم پر اعتراض اٹھا یاگیا۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ 1973کے آئین میں ایوان سے باہر مشیر لگانے کااختیار دیا گیا تھا، جو جماعت آج ایڈوائزر زلگانے پر اعتراض کررہی ہے اس کے چیئرمین نے اپنے دور اختیار میں بیرون ملک سے آئے لوگوں کو ایڈوائزر لگایا، قومی اسمبلی میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے آنے سے پہلے ہی موجود تھا کہ حکومت ایڈوائزر باہر سے لاکر لگا سکتی ہے، ہم نیا کچھ نہیں کررہے صرف پی ٹی آئی دورکے طرز پر پنجاب اسمبلی میں ایڈوائزر زلگانے جا رہے ہیں، پی ٹی آئی چاہتی ہے ایڈوائزر زضرور لگیں لیکن وہ ایوان میں بات نہ کریں ، اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہم سب آئین پاکستان کے تابع ہیں، آئین پاکستان کی شق 111یہ حق دیتی ہے وزیر اعلی کا ایڈوائزر ایوان میں بات کر سکتا ہے