سابق پولیس افسر شوہر نے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا:ملزمہ پنکی
گینگ ممبر خاتون کا افریقی شوہر پاکستان میں کوکین سمگل کرتا تھا:بیان
لاہور، کراچی (کرائم رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک)انمول عرف پنکی سے جڑے منشیات کے مبینہ نیٹ ورک کے مرکزی کردار سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ زیرِ حراست ملزم ذیشان، انمول عرف پنکی کے اکائونٹس اور مالی معاملات سنبھالتا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے رابطے میں رہنے والا ایک پولیس اہلکار تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آسکا۔تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ملزمہ سے برآمد ہونے والی منشیات کی فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے جبکہ مزید شواہد کی روشنی میں نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا 6 رکنی گینگ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرم تھا اور مختلف طریقوں سے منشیات کی سپلائی کی جاتی تھی۔تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔انمول عرف پنکی نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز سکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی، ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور شفٹ ہوئی، مینار پاکستان پر ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی بعد میں اسی کے ساتھ رہنے لگی۔انمول عرف پنکی کے مطابق وہ ماڈلنگ اور اداکاری کیلئے فلموں کے ڈائریکٹرز کے دفاتر جاتی تھی، سابق پولیس افسر شوہر سے ملاقات بھی فلم ڈائریکٹر کے دفتر میں ہوئی، سابق شوہر نے ہی انہیں اپنے منشیات فروش گینک کا حصہ بنایا۔انمول عرف پنکی نے بتایاکہ سابق شوہر کے ذریعے ہی اس کے گروپ ممبران سے ملاقات ہوئی، گروپ ممبر کے کہنے پر شوہر سے طلاق لی، علیحدگی کے بعد منشیات فروشی کا اپنا کام شروع کیا۔انمول عرف پنکی کا بتانا تھاکہ گروپ ممبر خاتون نے سیاہ فام افریقی باشندے سے شادی کر رکھی ہے، گروپ ممبر خاتون کا سیاہ فام افریقی شوہرکوکین پاکستان سمگل کرتا تھا، سابق شوہر کے لییکام کے دوران منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے ایک شخص کو پہنچاتی تھی، سابق شوہرکا نیٹ ورک راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک پھیلا ہوا ہے، اس نیمجھے کراچی کا انچارج بنایا۔پنکی کے مطابق شوہر سے علیحدگی کے بعد منشیات کی سپلائی کیلئے خاتون کو ملازم رکھا، لاہور کی ایک خاتون بھی کوکین سپلائی کرتی ہے، کراچی کے لیے 7 رائیڈرز پر مشتمل نیٹ ورک بنایا ہوا تھا، 4 رائیڈرزگرفتار ہوئے اور بعد میں کام چھوڑ دیا، 3 رائیڈرز اب بھی کام کررہے ہیں۔انمول عرف پنکی نے یہ بھی بتایاکہ پیسوں کے لین دین کے لیے ایک شخص کے نام پربینک میں اکائونٹ بھی کھولا۔