چین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام سے متعلق فیصلے کو روکے اور واپس لے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی اور اسحاق ہرزوگ کے درمیان یہ ملاقات آذربائیجان میں ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین کے مسئلے اور خطے میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فلسطین کا مسئلہ تاریخی ناانصافی قرار
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ چین کا مستقل مؤقف ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل خطے میں امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔وانگ یی نے زور دیا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں بستیوں کے جبری قیام سے متعلق اقدامات روکنے اور اس حوالے سے کیے گئے فیصلے واپس لینے چاہییں۔
دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور مفاہمت کا فروغ چین کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ ان کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کا پائیدار حل دو ریاستی فارمولے کے تحت ممکن ہے، جس میں فلسطینی اور اسرائیلی عوام امن و سلامتی کے ساتھ رہ سکیں۔چین طویل عرصے سے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسئلے کے حل کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
غزہ میں انسانی امداد کی رسائی پر زور
وانگ یی نے غزہ کی پٹی میں انسانی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوری ترجیح غزہ تک رسائی مکمل طور پر کھولنا ہے تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔ انہوں نے انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت پیدا کرنے اور متاثرہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔چینی مؤقف کے مطابق غزہ میں انسانی مشکلات کم کرنے کے لیے امدادی سامان کی بلاتعطل رسائی ضروری ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہییں۔
خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں
چین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل، دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت اور انسانی بحران سے نمٹنا ضروری ہے۔ مغربی کنارے میں بستیوں کے قیام سے متعلق اسرائیلی اقدامات پر چین کے تحفظات بھی اسی سفارتی مؤقف کا حصہ ہیں۔ملاقات کے حوالے سے جاری بیان میں چین نے زور دیا کہ خطے میں امن و مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازعے کو مزید پیچیدہ بنائیں۔