وزیراعظم نے فضلے سے توانائی پیداوار کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل کی منظوری دے دی

وزیراعظم نے فضلے سے توانائی پیداوار کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل کی منظوری دے دی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں فضلے سے توانائی (Waste to Energy) کے منصوبوں کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔

 اس اقدام کا مقصد پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور بڑھتے ہوئے فضلے کے مسئلے کو توانائی میں تبدیل کرنا ہے۔حکومتی فیصلے کے مطابق یہ ٹاسک فورس موجودہ ویسٹ ٹو انرجی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اس بنیاد پر ایک جامع قومی پالیسی تیار کرے گی۔ اس پالیسی میں نجی شعبے کی شمولیت، سرمایہ کاری کے مواقع، ادارہ جاتی ڈھانچے اور ایک واضح عملی روڈ میپ کو شامل کیا جائے گا تاکہ منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ٹاسک فورس کی قیادت وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری کو سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی بھی اس کا حصہ ہوں گے۔اس ٹاسک فورس میں اہم وفاقی سیکریٹریز بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ اور چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لوکل گورنمنٹ، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

نجی شعبے کے ماہرین کو بھی ممبران کے طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ عملی اور سرمایہ کاری پر مبنی تجاویز سامنے آ سکیں۔ٹاسک فورس کے اہم مقاصد میں بین الاقوامی بہترین طریقہ کار (best practices) کا جائزہ لینا، قانونی و ریگولیٹری رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے حل کے لیے اصلاحات تجویز کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ پاکستان میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے نفاذ میں آسانیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے اقدامات بھی تجویز کرے گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان میں بڑھتے ہوئے شہری فضلے اور توانائی کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ توانائی کے نئے ذرائع بھی دستیاب ہو سکیں گے۔