ہاکی ایشیاکپ: بھارت پاکستان کی شرکت روکنے کی سازش میں مصروف

ہاکی ایشیاکپ: بھارت پاکستان کی شرکت روکنے کی سازش میں مصروف

مینز ہاکی ایشیاکپ 2025 جو اگست اور ستمبر میں بھارت کے شہر راجگیر میں منعقد ہونے والا ہے، اس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے بڑی تشویش پائی جا رہی ہے۔

یہ ٹورنامنٹ 2026 ہاکی ورلڈکپ کی کوالیفائنگ تقریب کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم کا اس میں شامل ہونا لازمی ہے۔تاہم، حالیہ سیاسی کشیدگی، خاص طور پر پہلگام واقعہ کے بعد، بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے پاکستانی ٹیم کو ویزا دینے سے صاف انکار کیا ہے، جس کا مقصد پاکستانی ٹیم کو ایشیاکپ سے باہر رکھنا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو ہاکی ورلڈکپ کی کوالیفکیشن کے حوالے سے شدید نقصان ہوگا۔ایشین ہاکی فیڈریشن (اے ایچ ایف) نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن بھارتی حکام کی جانب سے ویزا نہ دینے اور پاکستانی ٹیم کو ٹورنامنٹ کا حصہ نہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کی جانب سے بھی اس مسئلے پر ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا، جبکہ بھارتی حکومت کی طرف سے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کی شرکت کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہوا۔پاکستانی ٹیم کا ایشیاکپ میں بہترین ریکارڈ رہا ہے، جس نے اب تک تین بار یہ ٹائٹل جیتا ہے اور 12 میں سے 11 ایونٹس میں حصہ لیا ہے، جو ایشیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔ پاکستانی شائقین ہاکی اور کھیل سے وابستہ حلقے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ممکنہ اثرات:

پاکستانی ہاکی ٹیم کو ورلڈکپ کوالیفائنگ سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
کھیل کے میدان میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایشین ہاکی فیڈریشن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین کھیل کو الگ رکھے۔