ٹرین حملے کا مرکزی کردار بھارت تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں: ترجمان پاک فوج
دہشتگردی کیخلاف پوری قوم نے لڑنا ہے، قومی ایکشن پلان میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ حامی بھری تھی، تمام سیاسی جماعتوں نے 14 نکات پر اتفاق کیا تھا، ان 14 نکات پر عمل کیا جائے تو دہشتگردی کبھی نہ ہو
افغان حکومت کو دہشت گردی کے مراکز بند کرنا ہونگے‘ ناقابل تردید ثبوت ان کو دے چکے ،دہشت گرد ان مراکز میں تربیت حاصل کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
دہشتگرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردی کی جنگ کو بلوچوں کے حقوق سے جوڑا جاتا ہے، دہشت گردوں کو بلوچ نہ کہا جائے، ایسے واقعات کا بلوچستان کی روایات سے کوئی تعلق نہیں:وزیر اعلی سرفراز بگٹی
اسلام آبا د(آن لائن‘آئی این پی)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جعفر ایکسپریس آپریشن کی تفصیلات جاری کردیں، انہوں نے کہا دہشت گردوں نے دشوار گزار علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا، حملے کی جگہ پر پہنچنا بڑا مشکل کام تھا، جوان انجن کی طرف سے ٹرین میں داخل ہوئے، بھارتی میڈیا نے بیانیہ بنانے کی کوشش کی جبکہ وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، عالمی برادری نے سانحہ جعفر ایکسپریس کی مذمت کی جس پر شکر گزار ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا، واقعہ جہاں ہوا وہاں کوئی موبائل سگنل کام نہیں کرتا، جائے وقوعہ کے قریب ایف سی کا پکٹ بھی تھا، واقعے میں ابتدائی طورپر تین ایف سی کے جوان شہید ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ دہشت گردوں نے خواتین کو ٹرین میں رکھا باقیوں کو باہر لے آئے، دہشت گردوں نے ٹولیوں کی صورت میں معصوم شہریوں کو باہر رکھا، دہشت گردی کے دوران بھارتی میڈیا بھرپور پروپیگنڈا کررہی تھی، مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھارتی میڈیا رپورٹنگ کرتا رہا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جس علاقے میں واقعے ہوا وہاں پہنچنا مشکل تھا، جائے وقوعہ سے بھارتی میڈیا پر چلنے والی فوٹیجز اے آئی کی تھی، بھارتی میڈیا ایک بیانیے کے تحت پروپیگنڈا کرتا رہا، سوشل میڈیا سے پرانی فوٹیجز اٹھا کر بھارتی میڈیا چلاتا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ 11 تاریخ ایک بجے کے قریب جعفرایکسپریس پر پہلا دھماکا ہوا، ان دہشت گردوں کا نا بلوچ اور نا پاکستان سے تعلق ہے، ان دہشت گردوں کا انسانیت سے بھی تعلق نہیں، واقعے کے دوران دہشت گرد افغانستان میں موجود ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں تھے، 12 مارچ کی صبح قریب موجود سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، دہشت گرد کئی گروپوں میں تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے بیشتر دہشت گردوں کو بھاگتے بھی دیکھا گیا، دہشت گردوں نے ٹولیوں میں خودکش حملہ آور بھی بٹھا رکھے تھے، ضرار کمپنی نے ان ٹولیوں سے خودکش حملہ آوروں کو مہارت سے مارا، ضرار کمپنی نے دہشت گردوں کو پناہ گاہوں سے نکلنے پر مجبور کیا، ضرار کے نوجوان سب سے پہلے انجن کا ٹیک اوور سنبھالتے ہیں، انجن کے بعد تمام بوگیوں کو کلیئر کیا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی بھی یرغمالی کو کوئی نقصان نہیں ہوا، دہشت گردوں نے آپریشن سے پہلے کچھ یرغمالیوں کو شہید کیا، آپریشن اتنی مہارت سے کیا کہ کسی ایک بھی یرغمالی کی جان نہیں گئی، آپریشن کے دوران پہاڑوں سے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ بھی کی گئی، دہشت گردوں کے پاس غیرملکی اسلحہ موجود تھا، سیکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو باحفاظت وہاں سے نکالا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسافروں کو باقائدہ سیکیورٹی نگرانی میں جائے وقوعہ سے نکالا گیا، آپریشن کلیئر ہونے کے بعد حصہ لینے والے جوانوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ سیکیورٹی فورسزنے جدید پلاننگ کے ساتھ جوابی کارروائی کی، اس واقعے کے تانے بانے پڑوسی ملک افغانستان سے ملتے ہیں، انفارمیشن وار کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا، اس وقت بھی متاثرہ علاقے میں سینیٹائزیشن کا کام جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ 36 گھنٹے میں یہ کامیاب آپریشن کیا گیا، پاکستان ایئر فورس نے بھی آپریشن کے دوران اہم کردار ادا کیا، تاحال کلیئرینس آپریشن جاری ہے، پاکستان میں خارجیوں سمیت افغانی بھی دہشتگردی میں ملوث ہیں، افغان نائب گورنر کا بیٹا بھی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث رہا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ جعفرایکسپریس پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو انگیج کر کے انہیں مہارت سے موت کے گھاٹ اتارا گیا‘انہوں نے کہا دہشتگردی کیخلاف پوری قوم نے لڑنا ہے، قومی ایکشن پلان میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ حامی بھری، تمام سیاسی جماعتوں نے 14 نکات پر اتفاق کیا تھا، ان 14 نکات پر اگرعمل ہو تو دہشتگردی کبھی نا بھڑے۔ 2024 اور2025 میں 1250 دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ لاپتا افراد کے مسئلے پر ایک کمیشن بنا ہوا ہے، حساس اداروں کو بہت سی معلومات ہوتی ہیں، ایسا نہیں کہ یہ واقعہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے، انٹیلی جنس سے اس سے پہلے بھی کہیں کامیاباں ہوئی، تمام ایجنسیاں دن رات پاکستانی شہریوں کی حفاظت پر لگی ہوئی ہیں، سبی بھر میں تھریڈز ہیں، اس واقعے میں بروقت رسپانس بھی انٹیلی جنس کی کامیابی ہے۔ اس گروہ کا نہ بلوچوں اور نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے‘پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، چین، امریکا، ترکیہ، بحرین اور دیگر ممالک نے بھی دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ بہادر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، سکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو بازیاب کرایا، بہادر افواج کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ نہتے مسافروں کے ساتھ دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا، دہشتگرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، دہشتگردی کی جنگ کو بلوچوں کے حقوق سے جوڑا جاتا ہے، دہشت گردوں کو بلوچ نہ کہا جائے، ایسے واقعات کا بلوچستان کی روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بدامنی پھیلانے والے صرف دہشتگرد ہیں، انہوں نے بلوچوں کی روایات کو پامال کیا ہے۔