اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے مذہب کے نام پر انتہا پسندی کسی صورت قبول نہیں، اپنی سیاست چمکانے کیلئے ایک سیاسی اور ایک مذہبی جماعت نے ایک بیانیہ بنایا، مذہب کارڈ کھیل کر ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا، سیاسی جماعت کے بیانیے سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے میری جان لینے کی کوشش کی، گولی میرے جسم میں موجود ہے، اللہ نے مجھے زندگی دی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دنیا میں وہ تہذیب غالب ہوتی ہے جو علم میں آگے ہوتی ہے، آج کون سے یہودونصاری نے ہمارا راستہ روکا ہے کہ علم نہ حاصل کریں؟ دنیا میں وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جن میں انصاف ہوتا ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج ہمارے تھانوں، کچہری اور پٹوارخانوں میں رشوت لیتے ہیں، ہمیں یہودونصاری نے تو تلقین نہیں کی کہ آپ رشوت لیں، آج ہمارے برانڈز کی پشت پر یکساں معیار دینے والی طاقت نہیں، کیا یہودونصاری نے ہمیں کہا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ کرو؟ ہمیں سازش تھیوری سے نکلنا ہے، کوئی ہمارے خلاف سازش نہیں کر رہا ہم خود اپنے خلاف کرتے ہیں۔