منیلا: فلپائن کے جنوبی حصے میں آنے والے 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے نے نہ صرف بڑے پیمانے پر تباہی مچائی بلکہ سمندر کی تہہ اور ساحلی جغرافیہ میں بھی حیران کن تبدیلیاں پیدا کر دیں۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی فلپائن کے علاقے منڈاناؤ میں تھا، جہاں جھٹکوں کے نتیجے میں کم از کم 61 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد افراد لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔زلزلے کے بعد سامنے آنے والے غیر معمولی اثرات میں سب سے نمایاں تبدیلی سمندر کی تہہ کا تقریباً 2 میٹر تک بلند ہونا ہے، جس کے باعث بعض ساحلی علاقے تقریباً 200 میٹر تک آگے بڑھ گئے۔ ماہرین کے مطابق اس عمل کو “کوسٹل اپ لفٹ” کہا جاتا ہے، جو زمینی پلیٹوں کی شدید حرکت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق کوٹا باٹو ٹرینچ میں زمینی پرتوں کی شدید ٹیکٹونک سرگرمی نے سرانگانی اور داواؤ آکسیڈنٹل کے ساحلی حصوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث وہ علاقے جو پہلے سمندر کے نیچے تھے، اچانک خشکی میں تبدیل ہو گئے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے مرجان چٹانوں، سمندری گھاس کے میدانوں اور دیگر حساس آبی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پانی سے باہر آنے کے باعث بڑی تعداد میں مرجان اور سمندری حیات ہلاک ہو رہی ہے، جبکہ مختلف اقسام کی مچھلیاں، سیپیاں اور دیگر آبی جاندار بھی متاثر ہوئے ہیں۔سرکاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مردہ آبی حیات کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور بدبو جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جس پر مقامی انتظامیہ نگرانی کر رہی ہے۔ماہرین نے مزید سروے اور تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے نے نہ صرف انسانی آبادی کو متاثر کیا ہے بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کے توازن کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔