تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور امن سمجھوتے سے متعلق 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی اہم شقیں منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں معاشی، سفارتی اور علاقائی سطح پر متعدد بڑے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ نکات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، ایران کی اقتصادی بحالی اور خطے میں جاری فوجی تناؤ کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مسودے میں امریکی بحری ناکہ بندی کو 30 روز کے اندر ختم کرنے اور ایران کی تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیوں کو معطل کرنے کی تجویز شامل ہے۔دستاویز میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شق بھی رکھی گئی ہے تاکہ خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کریں گے۔
مسودے کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں سرگرم مزاحمتی گروپوں سے متعلق معاملات کو شامل نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، جبکہ امریکا ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کے آغاز سے قبل 12 ارب ڈالر جاری کرے گا۔مجوزہ دستاویز میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے اعلان اور حتمی ایران امریکا معاہدے کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم مجوزہ نکات کے حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ اور حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہ