کشمیری قوم کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفاکادن

چودھری محمد سرور 

مظلوم کشمیری قوم کے ساتھ تجدید عہدوفاکادن ہے۔ اس کا سبب 27 اکتوبر1947 ء￿ کی ایک سیاہ شب پیش آنے والا وہ المناک واقعہ اور سانحہ ہے کہ جب بھارتی فوج نے ریاست جموں کشمیر پرچڑھائی کرکے اس کی وحدت کوپارہ پارہ کردیا۔ریاست کے ایک بڑے حصے پربھارت کے جبری قبضہ پرکشمیری عوام کاآتش زیرپاہونافطری امرتھا۔جب کشمیری عوام نے بھارتی جارحیت کامنہ توڑ جواب دیا،ریاست کاایک بڑاحصہ بھارتی تسلط سے آزادکروالیااورمجاہدین کے قدم سری نگرکی طرف بڑھنے لگے تو جواہر لال نہرو یکم جنوری 1948ء￿ کو اقوام متحدہ جاپہنچے۔اس موقع پر بھارتی حکومت کی طرف سے سلامتی کونسل میں ایک طویل درخواست پیش کی گئی جس کالب لباب یہ تھا : 
’’ریاست جموں کشمیرنے آئینی وقانونی طریقے سے ہندوستان سے الحاق کیا ہے۔الحاق کی دستاویز پر ریاست کے والی مہاراجہ ہری سنگھ نے برضاورغبت اورعوامی جماعت کے رہنما شیخ عبداللہ نے دستخط کئے ہیںمگرپاکستان کے سرحدی علاقوں کے مسلح قبائل نے ریاست پرحملہ کردیا ہے۔قبائلی لشکر پاکستانی حدودسے گزرکرآئے ہیں۔ہماری درخواست ہے کہ پاکستانی حکومت کو قبائل کی مددکرنے اورقبائل کوریاست پرحملہ کرنے سے روکاجائے یا ہمیں ان قبائل کے خلاف کاروائی کرنے کی اجازت دی جائے ‘‘۔یہ تھا سلامتی کونسل میں بھارتی حکومت کی درخواست کاخلاصہ۔
تاریخ کاادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ بھارتی حکومت نے اس درخواست کی بنیاد جھوٹ اوردھوکے پررکھی تھی۔اسلئے کہ ریاست جموں کشمیرمیں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی۔مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس تقسیم ہندسے پہلے ہی الحاق پاکستان کی قراردادمنظورکرکے ریاستی عوام کی منزل کاتعین کرچکی تھی۔ ریاست کی زمینی او ر جغرافیائی سرحدیں بھی پاکستان کے ساتھ ملتی تھیں۔ ان حالات میںمہاراجہ ہری سنگھ یاشیخ عبداللہ ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کی کسی دستاویز پردستخط کرنے کے ہرگزمجازنہ تھے۔اس کے باوجوداگران دونوں نے کسی لالچ میں آکردستخط کربھی دیئے تھے توبرطانوی حکومت کوچاہئے تھا کہ ریاستوں کے الحاق کے بنائے ہوئے اپنے فارمولے کوپیش نظر رکھتے ہوئے ایسی دستاویزات کومسترد کردیتی۔لیکن یہ برطانوی حکومت ہی تھی جوریاست پربھارتی قبضے کی پہلے سے راہ ہموارکرچکی تھی۔برطانوی حکومت اورکانگریس نے اپنے تئیں ریاست جموں کشمیرپرقبضے کاایک جامع پلان بنارکھاتھالیکن غیوروبہادرقبائل کی مداخلت کی وجہ سے یہ پلان کامیاب نہ ہوسکا۔ریاست جموں کشمیرکے بہادر عوام اورغیورقبائل نے بھارتی تسلط سے ریاست کا33958 مربع میل علاقہ آزادکروالیا۔اب سری نگرمجاہدین کے قدموں کی چاپ سے صرف پندرہ سولہ میل کے فاصلے پرتھاکہ جواہرلال نہروبھاگم بھاگ سلامتی کونسل جاپہنچے اورجنگ بندی کی دہائی دینے لگے۔قصہ مختصر یکم جنوری 1948ء￿ کوبھارت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل میں جودرخواست پیش کی اس کے جواب میں پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل میں پاکستان کاموقف پیش کرتے ہوئے کہا ’’ہندوستان نے ریاست جموں کشمیر پرقبضہ کی جوکاروائی کی یہ دراصل نوزائیدہ پاکستان کوتباہ وبربادکرنے کا بھارتی منصوبہ ہے۔بھارت نے ریاست میں استصواب رائے کاجووعدہ کیایہ۔۔۔۔محض فریب ہے۔اگرخدانخواستہ بھارت کاقبضہ ریاست پرمستحکم ہوگیاتووہ استصواب رائے کے وعدے سے منحرف ہوجائے گا۔‘‘۔پاکستانی نمائندے نے یکم جنوری کوجن خدشات کااظہارکیا تھا بعد میں پیش آنے والے واقعات نے حرف بحرف ان کو درست ثابت کردیا۔جیسے ہی بھارت کاقبضہ مستحکم ہواوہ استصواب رائے کے وعدے سے پھرگیا۔یہی وجہ ہے کہ آج جب پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیرکے حوالے سے کوئی بات کرتا ہے توبھارتی حکمران دوٹوک کہہ دیتے ہیں’’پاکستان مقبوضہ جموں کشمیرکوبھول جائے اوراگرپاکستان کے ساتھ مذاکرات ہوں گے توآزادکشمیر کے حوالے سے ہوں گے۔‘‘
بھارتی حکمرانوں کی وعدہ خلافیوں کی شرمناک داستان یہاں پرہی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ داستان اس سے بھی طویل تراورشرمناک ہے۔مثلاََ سلامتی کونسل نے رکن ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیاجوپانچ ارکان پرمشتمل تھااس کمیشن کاایک ممبرجوزف کوربل اپنی کتابDanger in Kashmirمیں لکھتاہے’’جب ہماراوفدریاست جموں کشمیر کے دورے پرپہنچاوہاں ایک دن ریاستی حکومت نے ہمارے دورہ بارہمولہ کاانتظام کیا۔راستے میں ایک جگہ ہمارے لئے ایک جلسے کے وزٹ کااہتمام کیا گیاتھاہم نے دیکھاوہاں ایک شخص تقریر کررہا تھالوگوں نے نیم دلی سے شیخ عبداللہ اوربھارت زندہ بادکے نعرے لگائے۔اتنے میں ایک نوجوان پولیس کے گھیرے کوتوڑتاہواہمارے سامنے آگیااورچلاکرانگریزی زبان میں کہنے لگا’’یہ لوگ ہم پرظلم کررہے ہیں‘‘ پولیس نے اسے فوراََ پکڑلیا اورگھسیٹے ہوئے ہم سے دورلے گئی لیکن وہ شخص اس دوران بھی پاکستان زندہ بادکے نعرے لگاتارہا‘‘۔
یہ تھے مقبوضہ جموں کشمیرکے حالات کہ جہاں ہرطرف پاکستان زندہ بادکے نعرے گونج رہے تھے۔اس کابدیہی مطلب یہ تھاکہ اہل کشمیرکے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے تھے،وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے لیکن بھارت نے بزورقوت ریاست کے 50513مربع میل علاقے پرقبضہ کرلیا۔
ان حالات میں سلامتی کونسل نے 5جنوری1948ء￿ کومسئلہ کشمیرکے حوالے سے تاریخی قراردادمنظورکی اسے حق خودارادیت کی قراردادکہاجاتاہے اوراس قراردادکے درج ذیل نکات ہیں            
1 ریاست جموں کشمیر کے ہندوستان یاپاکستان کے ساتھ الحاق کا مسئلہ آزادانہ اورمنصفانہ رائے سے جمہوری طریقے کے مطابق حل کیاجائے گا اوراس سلسلہ میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
2 .اقوام متحدہ کاسیکرٹری جنرل کمیشن کی رضامندی کے ساتھ ایسے شخص کواستصواب رائے کاناظم مقررکرے گاجس کی دیانتداری ہرقسم کے شک وشبہ سے بالاترہوگی۔                    
 .3جب کمیشن کواس امرکااطمینان ہوجائے کہ ریاست کے حالات معمول پرآگئے ہیںتوکمیشن اورناظم ریاست کی مسلح افواج کے آخری تعین کی کاروائی عمل میں لائیں گے۔یہ تعین ریاست کی سلامتی اوراستصواب رائے کی آزادی کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔
4۔ریاست کے اندرتمام سول اورفوجی ذمہ داران اورریاست کے تمام سربرآوردہ سیاسی عناصر کے لئے لازم ہوگا کہ استصواب رائے کے انتظامات مکمل کرنے کے لئے ناظم کے ساتھ تعاون کریں۔
5۔ان تمام ریاستی باشندوں کوجنہیں فسادات کی وجہ سے ترک وطن کرناپڑاواپس بلایاجائے گا۔    
6۔وہ تمام افراد(ریاستی باشندوں کے سوا)جو15اگست1947ء￿ کویااس کے لگ بھگ غیرقانونی مقاصد کی خاطرریاست میں داخل ہوئے ،ان سب کوریاست سے چلے جاناہوگا۔
7۔ریاست جموں کشمیر کے تمام ارباب اختیاراس امرکااطمینان کریں گے کہ استصواب رائے کے دوران رائے دہندگان کوہراساں ،رشوت اورلالچ کے تحت ورغلایا تونہیں جارہا۔
یہ تھی 5جنوری کوسلامتی کونسل سے پاس ہونے والی قراردادکے اہم نکات۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک جامع اورمکمل قراردادہے۔قرارداد تو پاس ہوگئی لیکن اس پر عمل کروانے میں ہمارے حکمران آج تک ناکام ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگرہمارے حکمرانوں نے ان قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہوتیں تومسئلہ کشمیر کب کاحل ہوچکاہوتا۔ اب صورت حال یہ کہ مسئلہ کشمیر پہلے سے بھی زیادہ گھمبیرہوچکاہے۔بھارت 5اگست 2019ء￿ میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کوپا?ں تلے روندتے ہوئے ریاست جموں کشمیرکوخصوصی حیثیت عطاکرنے والی دفعہ379اوردفعہ35کا بھی خاتمہ کرچکا ہے۔ریاست جموں کشمیرکے بارے میں بھارت کے جارحانہ عزائم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔بھارت کے ان عزائم کاپاکستان کی طرف سے جس طرح کاجواب آناچاہئے تھانہیں آیا۔پاکستان میں یہ صورت حال ہے کہ مظلوم کشمیری قوم کے حق میں آواز اٹھانے والے محسن کئی سالوں سے قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔اس طرح سے کشمیر پر پاکستان نے اپنا مقدمہ خود ہی کمزور کردیا ہے اگر ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ کشمیر پرہمارامقدمہ دنیالڑے گی تویہ ان کی بھول ہے۔کشمیرپراپنامقدمہ ہمیں خودہی لڑناہوگا۔جہاں تک کشمیری قوم کا تعلق ہے وہ آج بھی پاکستان کے نام پرجانیں قربان کررہے ہیں۔ گذشتہ سال 5نومبر کو مقبوضہ کشمیر اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا تو اراکین اسمبلی نے دفعہ 370کے خاتمہ کے خلاف قرارداد پیش کرکے ثابت کردیا ہے کہ کشمیری عوام کل بھی بھارت سے نفرت کرتے تھے اور آج بھی نفرت کرتے ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ہماری قوم اورہمارے حکمران بھی اہل کشمیرکی محبت کاجواب محبت سے دیں،بھارتی مظالم کودنیا کے سامنے عیاں کریں، جیلوں میں قید محسنین کشمیر کو رہا کریں اور5جنوری کی قراردادِ حق خودارادیت پرعمل درآمدکروانے کی سنجیدہ وعملی کوشش کریں۔